بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

اداروں کے مابین مذاکرات ،اسٹیبلشمنٹ کیا رائے رکھتی ہے؟انصار عباسی کے اہم انکشافات

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)روزنامہ جنگ میں سینئر صحافی انصار عباسی لکھتے ہیں کہ ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس بات سے ناراض نہیں کہ جس خیال پر زیادہ بحث ہو رہی ہے اور جس کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ اداروں کے

مابین مذاکرات ہونا چاہئیں۔اگر ایسا ہوا تو اس سے تمام ادارے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں گے اور ایک ایسا روڈ میپ تیار کر سکیں گے جس سے پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے ماضی کی غلطیوں کو دہرایا نہیں جائے گا۔اس ذریعے کا اسٹیبلشمنٹ سے قریبی رابطہ ہے۔ اس ذریعے نے بتایا ہے کہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو احساس ہے کہ تمام اداروں نے ماضی میں غلطیاں کی ہیں لہذا سب کو ماضی سے سیکھنا چاہئے اور اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہئے تاکہ عوام اور ملک کی بہتری ہو۔تاہم، یہ واضح نہیں کہ اداروں کے مابین مذاکرات کیلئے شروعات کون کرے گا۔ آزاد مبصرین کی رائے ہے کہ یہ کام وزیراعظم عمران خان کو کرنا چاہئے جو یہ اقدام کریں لیکن وہ بدستور اپنے سیاسی مخالفین کی جانب جارحانہ رویہ رکھے ہوئے ہیں حتی کہ قومی مفاد کے حامل معاملات پر بھی مذاکرات کیلئے ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔نواز شریف، جنہوں نے حال ہی میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کیخلاف جارحانہ موقف اختیار کیا،

نے کئی لوگوں کو حیران و پریشان کر دیا اور ملک کی سیاسی صورتحال کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی کہ نظام کیلئے خطرات پیدا ہوئے۔ لیکن وہ بھی با معنی مذاکرات کیلئے رضامند ہیں۔ تاہم، ان کی حالیہ ٹوئیٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنا جارحانہ رویہ چھوڑنے کو تیار نہیں۔

پی ڈی ایم رہنمائوں میں سے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو بھی مذاکراتی عمل کا خیر مقدم کریں گے۔تاہم، مولانا فضل الرحمن کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حال ہی میں جے یو آئی ف کے سینئر رہنمائوں نے مذاکرات کے عمل کی مخالفت کی۔ اگر وزیراعظم عمران خان نے اپنی سوچ تبدیل نہ کی تو سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کی طرف سے ہی آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…