اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کاروبار ی ہفتے کے پہلے روز ڈالر مزید سستا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد، کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی )کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ڈالر 32 پیسے سستاہو گیا ہے جس کے بعد ڈالر پانچ ماہ کی کم ترین سطح 161.05 روپے کا ہو گیا، دوسری جانب رواں ماہ میں ڈالر 160 روپے سے

بھی نیچے آنے کی پیش گوئی کر دی گئی ۔صدر فاریکس ایسوسی ایشن ملک بوستان کے مطابق روشن ڈیجیٹل پاکستان اکائونٹ سے بڑے پیمانے پر پاکستانی ملک میں پیسے بھیج رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں ڈالر کی قیمت میں 6روپے سے زائد کمی ہو چکی ہے۔ ستمبر میں اکائونٹ نوٹیفکشن کے وقت ڈالر 168 روپے کا تھا ۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہفتے میں 100 ملین یومیہ آرہے تھے جو اب بڑھ کر 300 ملین روپے یومیہ ہوگئے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل کے اعلان کے بعد بڑے پیمانے پر لوگ ڈالر فروخت کر رہے ہیں لیکن خریداری کم ہے۔ منی ایکسچینج کائونٹر پر یومیہ 10 سے 12 ملین ڈالر فروخت کے لیے ہیں جو حکومت پاکستان کو دے رہے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ افغان بارڈر اس وقت سر درد بنا ہوا ہے کراس بارڈر کی وجہ سے 10 سے 15 ملین ڈالر وہاں سے نکل جاتا ہے۔ چمن بارڈر سے جانے والوں کے لیے ڈالر کی حد کو کم کیا جائے یا سال کا کوٹہ مقرر کیا جائے۔ کورونا میں لاک ڈان کی وجہ سے ڈالر کی فروخت بہت کم

ہوگی تھی۔صدر فاریکس ایسوی ایشن نے کہا کہ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اگست کے مہینے میں ریکارڈ پونے 3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر آئیں۔ گزشتہ دو ماہ سے بھی 2 ارب ڈالر ترسیلات زر آہی ہیں۔ ترسیلات زر کی یہی رفتار رہی تو یہ 30 ارب ڈالر

کو بھی کراس کر سکتے ہیں۔ملک بوستان نے کہا کہ اس وقت 90 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے 23 ارب ڈالر ترسیلات زر بھیجتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں بہتری ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…