جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

ہم پی ڈی ایم چاہتے ہیں کہ بلوچستان ایک آزاد ریاست ہو” اویس نورانی

datetime 25  اکتوبر‬‮  2020 |

کوئٹہ (نیوز ایجنسیاں)جلسے سے خطاب کے دوران جے یو پی کے اویس نورانی نے کہا کہ حکومت احتساب کے نام پر لوگوں کی تذلیل کرنا چاہتی ہے، ایسے احتساب کے عمل کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، ملک کا آئین توڑنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، آنے والا وقت پاکستان کیعوام کا ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ

موجودہ حکومت عوام کی منتخب کردہ نہیں بلکہ مسلط کی گئی ہے، حکومت نے دوسال میں ثابت کردیا کہ وہ عوام کی مشکلات حل نہیں کرسکتیں، وہ احتساب کی گردان کرتے ہیں اور احتساب نہیں انتقام لیتے ہیں، یہ دوائیں، پٹرول اور آٹا غائب کرکے مہنگا کرنے والا نیا پاکستان ہے، اس غیر آئینی اور غیر اخلاقی حکومت سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔ قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ مہنگائی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، غریب آدمی کے لئے 2 وقت کی روٹی کمانا مشکل ہے، ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ ہوگیا، موجودہ دورحکومت میں عوامی مشکلات اور مسائل دور نہیں کیے گئے، آئندہ انتخابات کے نتیجے میں عوام کی خواہش پر حکومت آئے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں ایک ہوگئی ہیں، سب کو مل کر وفاق سے صوبوں کا حق لینا ہے، بلوچستان کو گیس اور خیبرپختونخواکو بجلی سے محروم رکھا جار ہاہے، بلوچوں اور پختونوں کو مل کر بلوچستان کے حقوق حاصل کرنا ہیں، گوادر پر سب سے پہلا حق بلوچستان کا ہونا چاہیے، پنجاب اور پورے پاکستان سے جو آواز اٹھ رہی ہے اس کا بھی مقدمہ لڑنا ہے۔ اس دوران پی ڈی ایم کے جلسے کے سلسلے میں کوئٹہ میں دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے تھے، سیکیورٹی کے لیے پولیس اور ایف سی کے 4 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ دفعہ 144نافذرہی، موٹر سائیکل کی

ڈبل سواری پر پابندی جب کہ شہر بھر میں موبائل فون سروس بھی معطل رہی۔ اس کے علاوہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں طبی امداد کی بروقت فراہمی کے لیے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔‎پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنما اویس نورانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے غاصبوں کے لیے ان کے طنزیہ اور

سوالیہ جملے کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیاگیا۔اپنے ایک وضاحتی بیان میں پی ڈی ایم رہنما اور سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے پاکستان اویس نورانی نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق طنزیہ اور سوالیہ جملے کو میرے مطالبے کے طورپرپھیلایا جارہاہے۔اویس نورانی نے کہاکہ بلوچستان پاکستان کا لازم جْز ہے، کسی کا باپ بھی اسے پاکستان سے الگ نہیں کرسکتا۔‎



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…