جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

عوام جائے بھاڑ میں حکومتی وزراء ، مشیر وں اور معاون خصوصی کی گاڑیوں کے ایندھن پر 4 کروڑ 68 لاکھ، مرمت پر 3 کروڑ 88 لاکھ خرچ

datetime 21  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزرا کی گاڑیوں کے ایندھن پر 4 کروڑ 68 لاکھ،مرمت پر 3 کروڑ 88 لاکھ خرچ ،وزرا ، مشیر وں اور معاون خصوصی کے پاس گاڑیوں کی تفصیلات بھی سینٹ میں پیش ،روزنامہ جنگ کے مطابق وقفہ سوالات کے دوران صابر شاہ کے سوال

کے تحریری جواب میں وزیر انچارج کابینہ ڈویژن نے بتایا کہ چیئرمین سینٹ اور سپیکر کے پاس 2017 ماڈل کی 4608 سی سی کی بلٹ پروف گاڑیاں ہیں۔شہزاد اکبر ، زلفی بخاری ، شیخ رشیدکے پاس ایک 1800 سی سی اور ایک 4608 سی سی بلٹ پروف گاڑی ہے، علی زیدی کے پاس 4608سی سی،سیکرٹری داخلہ کے پاس 4600 سی سی بلٹ پروف گاڑی ہے۔میاں محمد سومرو ، علی محمد خان کے پاس 3000سی سی گاڑیاں ہیں ، محمد شبیر علی کے پاس 2800سی سی ، شہریار آفریدی ، پرویز خٹک ، اعجاز شاہ ، اسد عمر ، مراد سعید ، شفقت محمود ، طارق بشیر چیمہ ، عمر ایوب ، رزاق دائود ، ڈاکٹر فیصل سلطان ، زرتاج گل ، محمد صابر علی ،فیصل واوڈا ،بابر اعوان ، غلام سرور خان، شہزاد ارباب ، صاحبزادہ محمود سلطان ،ڈاکٹر معید یوسف ، فواد چوہدری ، فخر امام ، حماد اظہر ، شہزاد قاسم ،ندیم افضل چن ،شبلی فراز، شہباز گل ، عاصم سلیم باجوہ ، شاہ محمود قریشی،ڈاکٹر وقار مسعود ، عبدالحفیظ شیخ ، خسرو بختیار

، زبیدہ جلال ، علی امین گنڈا پور، ڈاکٹر عشرت حسین ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر ، سید امین الحق ، تابش گوہر کے پاس 1800 سی سی گاڑیاں ہیں۔گاڑیوں پر گزشتہ 3سال میں ایندھن پر 4 کروڑ 68 لاکھ،مرمت پر 3 کروڑ 88 لاکھ روپے اخراجات آئے،گاڑیوں کی مجاز کمیٹی کی

جانب سے منظور کردہ 29گاڑیوں پر مشتمل فلیٹ کابینہ ڈویژن کے جنرل پول کے قبضے میں ہے ، جن پر گزشتہ تین سالوں کے دران ایندھن و دیکھ بھال پر تقریباً 24 ملین روپے خرچ آیا، گاڑیوں کے مرکزی پول میں مختلف اقسام کی 58گاڑیاں ہیں جن میں 1800سی سی تا 6ہزار سی سی تک شامل ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…