اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

عروسی ملبوسات تیار کرنیوالے کاریگروں کی اڈوں پر واپسی، کام پہلے جیسی آمدن نہ ہونے کا شکوہ

datetime 11  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)عروسی ملبوسات تیار کرنے والے کاریگر کئی ماہ بے روز گار رہنے کے بعد کام پر لوٹنا شروع ہو گئے ہیں لیکن کام میں پہلے جیسی آمدنی نہ ہونے کا شکوہ کیاہے۔ دوسری جانب سرمایہ داروں اور بدلتے دور کے تقاضوں نے پہلے ہی کاریگر کی اہمیت کم کر رکھی ہے۔

کارچوبوں پر زردوزی کا کام کرتے کاریگر اپنی زندگی کے کئی سال کامدانی بناتے گزار چکے ہیں۔ عروسی ملبوسات کے پیچھے کئی کاریگروں کی کئی کئی روز کی محنت ہوتی ہے، سب سے پہلے پیپر ٹریسنگ، سوزن اور چھپائی کی جاتی ہے جس کے بعد کڑھائی اور زردوزی، کاریگر نفاست سے گل کاری کرتے ہیں، کورا، دبکہ اور گوٹا لگاتے ہیں، سلمی ستارے اور موتی ٹانکتے ہیں۔کورونا کے دوران یہ کاریگر کئی ماہ تک بے روز گار رہے، کچھ نے پیشہ ہی بدل ڈالا۔ کورونا سے پہلے اس کارخانے میں 18 اور اب محض 6 کاریگر لوٹے ہیں۔ شادیوں کا سیزن شروع تو ہوگیا ہے۔ شادی ہال بھی کھل گئے ہیں لیکن ان کا کام اب بھی سست رفتاری سے چل رہا ہے۔ کاریگروں کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں محنت کشوں کا استحصال تو پہلے ہی سے جاری ہے ، ڈیزائنرز ان سے کام کروا کر دس گنا زیادہ قیمت میں بیچتے ہیں مگر انہیں ہفتے کے وہی اوسطا سات ہزار روپے ہی میسر آپاتے تھے۔ اوپر سے کورونا لاک ڈاون کے بعد تو کام بہت ہی کم ہو کر رہ گیا ہے اورآمدنی کم ہو کر دو ڈھائی ہزار رہ گئی ہے۔

کاریگروں نے بتایاکہ اس کام کی پہلے جیسی وقعت نہیں رہی نہ ہی کام میں نفاست کی طلب ہے، ہر کوئی کم دام کی تلاش اور جلدی میں ہے۔ کاریگروں کو امید ہے کہ کورونا کا مکمل خاتمہ ہو جائے اور زندگی پہلے کی طرح معمول پر آ جائے تو انکی آمدنی میں بہتری آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…