بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

عروسی ملبوسات تیار کرنیوالے کاریگروں کی اڈوں پر واپسی، کام پہلے جیسی آمدن نہ ہونے کا شکوہ

datetime 11  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)عروسی ملبوسات تیار کرنے والے کاریگر کئی ماہ بے روز گار رہنے کے بعد کام پر لوٹنا شروع ہو گئے ہیں لیکن کام میں پہلے جیسی آمدنی نہ ہونے کا شکوہ کیاہے۔ دوسری جانب سرمایہ داروں اور بدلتے دور کے تقاضوں نے پہلے ہی کاریگر کی اہمیت کم کر رکھی ہے۔

کارچوبوں پر زردوزی کا کام کرتے کاریگر اپنی زندگی کے کئی سال کامدانی بناتے گزار چکے ہیں۔ عروسی ملبوسات کے پیچھے کئی کاریگروں کی کئی کئی روز کی محنت ہوتی ہے، سب سے پہلے پیپر ٹریسنگ، سوزن اور چھپائی کی جاتی ہے جس کے بعد کڑھائی اور زردوزی، کاریگر نفاست سے گل کاری کرتے ہیں، کورا، دبکہ اور گوٹا لگاتے ہیں، سلمی ستارے اور موتی ٹانکتے ہیں۔کورونا کے دوران یہ کاریگر کئی ماہ تک بے روز گار رہے، کچھ نے پیشہ ہی بدل ڈالا۔ کورونا سے پہلے اس کارخانے میں 18 اور اب محض 6 کاریگر لوٹے ہیں۔ شادیوں کا سیزن شروع تو ہوگیا ہے۔ شادی ہال بھی کھل گئے ہیں لیکن ان کا کام اب بھی سست رفتاری سے چل رہا ہے۔ کاریگروں کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں محنت کشوں کا استحصال تو پہلے ہی سے جاری ہے ، ڈیزائنرز ان سے کام کروا کر دس گنا زیادہ قیمت میں بیچتے ہیں مگر انہیں ہفتے کے وہی اوسطا سات ہزار روپے ہی میسر آپاتے تھے۔ اوپر سے کورونا لاک ڈاون کے بعد تو کام بہت ہی کم ہو کر رہ گیا ہے اورآمدنی کم ہو کر دو ڈھائی ہزار رہ گئی ہے۔

کاریگروں نے بتایاکہ اس کام کی پہلے جیسی وقعت نہیں رہی نہ ہی کام میں نفاست کی طلب ہے، ہر کوئی کم دام کی تلاش اور جلدی میں ہے۔ کاریگروں کو امید ہے کہ کورونا کا مکمل خاتمہ ہو جائے اور زندگی پہلے کی طرح معمول پر آ جائے تو انکی آمدنی میں بہتری آئے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…