ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

بجلی مسلسل مہنگی ہونے کے باوجود گردشی قرضہ بڑھنا حیران کن،گردشی قرضہ معیشت کیلئے بہت بڑا بوجھ قرار، گیس اور بجلی کے شعبوں کاقرضہ کیوں بڑھ رہا ہے؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 5  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گردشی قرضے کی موجودگی میں معاشی پالیسیوں کی کامیابی اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی توقع رکھنا خود فریبی ہے جس میں ہم کئی دہائیوں سے مبتلا ہیں۔گردشی قرضے کے خاتمے کیلئے بجلی کی قیمت مسلسل بڑھائی جا رہی

ہے مگر گردشی قرضہ بھی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے جو حیران کن ہے۔اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے بجلی اور گیس کے شعبوں کے گردشی قرضوں کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمتیں ویتنام، سری لنکا، بنگلہ دیش، ملائیشیا، بھارت، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا سے زیادہ ہیں۔ ان ممالک کے مقابلے میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی 28فیصد اور صنعتی صارفین کے لیے 26 فیصد تک زیادہ ہے مگر پھر بھی پاور سیکٹر کے نقصانات حیران کن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے شعبے میں ہونے والے نقصانات میں بڑا عنصرچوری اور دیگر لائن لاسز کا ہے جس کے اثرات سے عام صارفین اور کاروباری برادری متاثر ہو رہی ہے اور یہ قرضہ معیشت کے لئے بڑا بوجھ بنا ہوا ہے۔ ہر سال موسم سرما آنے سے پہلے گیس اور گرمیوں سے قبل بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور انکی قیمتیں بڑھنا ایک معمول بن چکا ہے جس سے عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے اور ان کی پریشانی اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں بجلی اور گیس سمیت تقریباً ہر قسم کی سبسڈی وہ لوگ استعمال کر رہے ہیں جنھیں اسکی ضرورت نہیں جبکہ بہت سے با اثر لوگ دھڑلے سے چوری بھی کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں بجلی کی طرح گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ بھی بڑھ رہا ہے۔گیس درآمد کرنے کے معاہدوں

کی وجہ سے ہم مہنگی ایل این جی خرید رہے ہیں جبکہ کھلی منڈی میں اسکی قیمت مقامی گیس سے بھی کم ہے مگر اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔پاکستان کے لئے درآمدی اور ملک میں پیدا ہونے والی گیس کی قیمت میں فرق ہونے کی وجہ سے ہم درآمدی گیس ملکی گیس کی قیمت پر فروخت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے

جس سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ توانائی کے بحران سے گزشتہ دو دہائیوں میں ملکی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے جو برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں اضافے کا باعث بنی جو پالیسی سازوں اور مقتدر حلقوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے جبکہ ان مسائل سے نمٹنے کی قابل عمل پالیسی بنانا وقت کا تقاضہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…