جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آذربائیجان نے آرمینیا کا جنگ بندی اعلان مسترد کر دیا شہر استپاناکرت پر چڑھائی کر دی ،شدید لڑائی جاری اقوام متحدہ میدان میں کود پڑا ، بڑا اعلان کر دیا

datetime 4  اکتوبر‬‮  2020 |

باکو(مانیٹرنگ ڈیسک ) روس اور فرانس کی جنگ بندی کی کوششیں ابھی تک کارگر ثابت نہ ہو سکیں، آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے، آذری فورسز نے فوجی اعتبار سے اہم گاؤں سمیت کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق آذربائیجان کے صدر نے کہا ہے کہ

ان کی فورسز نے اہم گاؤں ماداخز سمیت کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمینیا کے فوجی دستوں کو آذربائجان کا علاقہ چھوڑنا ہو گا، صرف اسی صورت میں ہی جنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرمینیا کو عالمی برادری میں اپنی اہمیت سے متعلق غلط اندازے تھے، دشمن نے ہمیں جنگ میں دھکیل کر بڑی غلطی کی جس کا خمیازہ بھگتتے ہوئے اب آرمینیا شکست کے قریب ہے۔آذربائجان میں عوام اپنی فوج کی کامیابیوں پر خاصے خوش دکھائی دیتے ہیں، دارالحکومت باکو میں آذری شہریوں نے اپنی فوج کی کامیابی پر جشن منایا، یونیورسٹی طلبا و طالبات سمیت شہری سڑکوں پر نکل آئے اور فوج کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔آذری حکام نے آرمینیا کی فوج کی طرف سے شہری علاقوں پر گولہ باری پر سخت تنقید کی، 27 ستمبر سے جاری جنگ میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔دوسری جانب آذربائیجان نے کاراباخ سے آرمینیا کےانخلاء تک جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔اقوام متحدہ نے آذر بائیجان اور آرمینیا سے جنگ بندی کی اپیل کردییاد رہے کہ چند روز قبل اقوام متحدہ نے آذر بائیجان اور آرمینیا سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتو نیو گو تریس نے آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان شروع ہونے والی جنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک فوری طور پر جنگ بند کریں اور تصفیہ طلب امور پر مذاکرات کریں۔عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتو نیو گو تریس نے طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…