ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

میرے والد کو کوئی گالی دے میں برداشت نہیں کرسکتا اور والدین کی عزت پر سوالیہ نشان تو ۔۔احتجاجا مستعفی پولیس آفیسر فہد افتخارورک نےسب کچھ بتا دیا

datetime 25  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی گالی’’او کھوتے دے پتر میں کیا پوچھ رہا ہوں اور توکیا بتا رہا ہے‘‘ پر احتجاجاً استعفی دینے والے پولیس آفیسر فہدافتخار ورک نے سب کھل کر بتا دیا۔ان کا کہنا ہے کہ میرے والد صاحب کو گالی دی گئی جو مجھے برداشت نہیں ہے ،میں اپنے والدین کی عزت پر سوالیہ نشان برداشت نہیں کر سکتا۔فہد افتخار ورک نے بتایا کہ 22 ستمبر کو

ایک اجلاس میں کیپٹل سٹی پولیس آفیسر ( سی سی پی او ) نے انہیں گدھے کا بچہ کہہ کر مخاطب کیا جس پر اپنی توہین محسوس کر تے ہو ئے مذکورہ افسر نے فوری طور پر محکمہ پولیس سے استعفیٰ دے دیا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فہد ورک کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا مانیٹرنگ سیل کے انچارج اور سی سی پی او سمیت دیگر افسران کو بریف کر رہے تھے کہ اس دوران سی سی پی او نے انہیں گدھے کا بچہ کہتے ہوئے کہا کہ وہ پوچھ کچھ اور رہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے۔فہد افتخار ورک کا کہنا تھ اکہ وہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد اسکول ٹیچر تھے۔گزشتہ مارچ سے وہ سی سی پی او اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کی ویب سائٹ پر کام کر رہے ہیں۔ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سب انسپکٹر (ایس آئی) فہد افتخار ورک سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی جانب سے انہیں گدھے کا بچہ کہنے پر انتہائی دلبرداشتہ ہوگئے اور پولیس سروس سے استعفیٰ دیدیا۔امریکا سے ماحولیاتی کیمیا میں ایم فل کرنے والے فہد افتخار سی سی پی او اور دیگر حکام کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ تاہم سی سی پی او لاہور کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ واقعہ حقائق کے برخلاف اور من گھڑت کہانی ہے ، کسی افسر کی توہین نہیں کی گئی۔قومی موقر نامے جنگ کے مطابق ایک اعلیٰ تعلیمیافتہ سب انسپکٹر نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے خراب رویہ سے تنگ آکر پولیس کی ملازمت ہی کو خیر باد کہہ دیا ۔دو صفحات پر مشتمل اپنے استعفے میں سب انسپکٹر فہد افتخار ورک نے تحریر کیا کہ وہ پولیس کے محکمے میں مزید خدمات انجام نہیں دے سکتے ۔ رابطہ کر نے پر فہد افتخار ورک نے بتایا کہ 22 ستمبر کو

ایک اجلاس میں کیپٹل سٹی پولیس آفیسر ( سی سی پی او ) نے انہیں گدھے کا بچہ کہہ کر مخاطب کیا ۔اپنی توہین محسوس کر تے ہو ئے مذکورہ ایس آئی نے فوری طور پر محکمہ پولیس سے استعفیٰ دے دیا ۔ورک کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا مانیٹرنگ سیل کے انچارج اور سی سی پی او سمیت دیگر افسران کو بریف کر رہے تھے ۔اس دوران سی سی پی او نے انہیں گدھے کا بچہ کہتے ہو ئے کہا کہ وہ پوچھ کچھ اور رہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے ۔فہد افتخار ورک نے کہا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ،ان کے والد اسکول ٹیچر تھے ۔گزشتہ مارچ سے وہ سی سی پی او اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کی ویب سائٹ پر کام کر رہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…