جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

اے پی سی کے انعقاد کے موقع پرمیڈیا پر جاری پابندیوں سمیت انٹرنیٹ بند کرکے مزید قدغن لگائے جانے کا امکان، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 19  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ( آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد سے قبل ہی ”عمرانی حکومت“ نے ہتھیار ڈال دئیے ہے، اے پی سی کے انعقاد کے موقع پرمیڈیا پر جاری پابندیوں سمیت انٹرنیٹ بند کرکے مزید قدغن لگائے جانے کا امکان ہے،مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کوپیپلز پارٹی کی جانب سے ورچوئل خطاب

کی دعوت سے ہی حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ نوازشریف کے اے پی سی سے ورچوئل خطاب سے خوفزدہ حکمرانوں نے نواز شریف کو باہر بھیجنے اور خاموش رہنے کے لیے شعوری منصوبہ بندی اور کاوش کی تھی۔ وہ ہفتہ کے روز غیر منتخب اقلیتی مشیر شہباز گل کے بیان پر تبصرہ کررہے تھے، اس موقع پر جے یو آئی ملتان کے رہنما ملک محمد اکرم، ملک محمد جنید، حاجی محمد نور خان ناصر، محمد ابوبکر، محمد عمر فاروق، جے یو آئی پنجگورکے رہنما مولانا علی احمد، قاری محمد صالح، معاویہ رشید، حافظ عبدالوحید محمد حسنی، قاری رشید احمد، حافظ زبیر احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ 20ستمبر کو اے پی سی کے انعقاد پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بھی امتحان ہے کہ وہ حکومت کے فاشسٹ احکامات پر سرتسلیم خم کریں گے یا اظہار آزادی کے علم کو ہر صورت بلند رکھیں گے، جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ یہ اے پی سی حکومت سے زیادہ اپوزیشن رہنماؤں کے لیے بھی چیلنج کا درجہ رکھتی ہے کہ وہ ابھی یا کبھی نہیں کی بنیاد پرموثر، مخلصانہ عملی اقدامات کا متفقہ فیصلہ کریں، انہوں نے کہا کہ دو سال تک شیر آیا شیر آیا کے نعرے کے بعد اب شیر کوسچ مچ آنا چاہئے، حافظ حسین احمدنے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اور اس کے شانہ بشانہ دیگر 8جماعتیں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کو عملی میدان میں لانے کے لیے کوشاں ہیں

لیکن بدقسمتی سے بیانیہ اور وعدے کے باوجود اس میں کامیابی حاصل نہ کی جاسکی، انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ اب بھی ”ہومیوپیتھک“ٹائپ کا کوئی فیصلہ کیا گیا توپھر سنجیدہ چھوٹی پارلیمانی پارٹیاں حتمی عملی اقدام کی طرف جاسکتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اے پی سی میں موجودہ

سلیکٹیڈ حکومت کے خاتمے کے لیے بھرپور احتجاج اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ کی تجویز سامنے لائے گی، جے یو آئی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان ہاؤس تبدیلی سے دھاندلی کے ذریعے قائم کردہ پارلیمنٹ ہاؤس کے طے شدہ حیثیت اور ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…