پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

’’بچی ان کی اپنی ہوتی تو وہ اسےایسے بے یارومددگار چھوڑ کر نہ بھاگتے ‘‘ جس بچی کو میاں بیوی چھوڑ کر بھاگے وہ انہوں نے کہاں سے لائی ؟ تہلکہ خیز انکشاف

datetime 18  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہورموٹرو کیس میں پولیس کی 30ٹیمیں اور 70چھاپوں کے باوجود مرکزی ملزم عابد علی کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی جبکہ اس کی اہلیہ کو دو روز گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ علاقہ مکینوں نے ملزم عابد علی سے متعلق حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں ۔ علاقے کی ایک بزرگ خاتون نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عابد علی سارا دن گھر میں پڑا رہتا تھا

اور رات ہوتے ہی وہ گھر سے نکل جاتا تھا اس نے پورے علاقے میں دہشت پھیلا رکھی تھی کوئی اس کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات نہیں کرتا تھا اس نے دھمکی دے رکھی تھی۔بچی کے حوالے بزرت خاتون نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ بچی اس کی اپنی نہیں تھی بلکہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی یہ بچی اس نے اپنے بھائی سے لی تھی ، جب پولیس نے چھاپہ ماراتو میاں بیوی اسے وہاں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے ، ان کا کہنا تھا کہ اپنا خون ہوتا تو وہ اسے کبھی چھوڑ کر نہ جاتے بلکہ ساتھ لے کر جاتے ۔قبل ازیں لاہور موٹر وے کیس میں گرفتار ملزم عابد علی کی بیوی نے پولیس کو اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کروا دیا، نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد عابد گھر آیا تھا کافی پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ واقعے کے بارے میں عابد نے مجھے نہیں بتایا۔واقعے کے بعد عابد کی شناخت ہوئی تو وہ فرار ہو گیا۔میں بھی بچی کو چھوڑ کر والدین کے گھر آ گئی۔میری عابد کے ساتھ دوسری شادی ہے۔عابد کئی روز تک گھر نہیں آتا تھا،پوچھتی تھی تومارتا تھا۔دریں اثنا پولیس نے لاہور موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی سے رابطے میں رہنے والے 5 رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ملزم عابد علی سے دو روز قبل رابطے میں رہنے والے 5 رشتہ داروں کو حراست میں لیا ہے۔مرکزی ملزم کے رشتہ داروں سے تفتیش لاہور میں کی جائے گی۔ اس سے پہلے مفرور ملزم عابد علی کی اہلیہ کو پولیس نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد ملزم کی بیوی کی نشاندہی پر مختلف جگہوں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم عابدعلی کو گرفتار کرنے کیلئے اب تک 66چھاپے مارے جا چکے ہیں۔لیکن ابھی تک پولیس کو ناکامی کا سامنا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…