پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

لاہور موٹر وے کیس مقدمے کے مدعی نے غلط پتے کیوں لکھوائے ؟موبائل فون کیوں بند کر دیے اور کہاں غائب ہیں ،خاتون نے مدد کیلئے کسی رشتہ دار کی بجائے دوست کیوں بلوایا ؟لاہور موٹروے کیس عجیب و غریب صورتحال اختیار کر گیا

datetime 11  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )موٹروے پر متاثرہ خاتون سے متعلق کیس میں ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔پولیس کی تحقیقات میں نیا رخ سامنے آیا ہے۔مدعی مقدمہ اور اس کے ساتھی سے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق گاڑی خراب ہونے پر خاتون نے سردار شہزاد نہیں جنید کو فون کیا۔

جنید اپنے دوست سردار شہزاد کے ساتھ متاثرہ خاتون کی مدد کے لئے پہنچا۔جنید نے سردار شہزاد کو مقدمے کا مدعی بنایا۔سردار شہزاد نے خود کو خاتون کا رشتہ دار بتایا۔مقدمے کے مدعی اور ساتھی بھی شامل تفتیش ہیں۔دونوں نے اپنے فون نمبر بند کر دیے ہیں۔سردار شہزاد گوجرانوالہ کا رہائشی ہے۔سردار شہزاد نے خود کو خاتون کا رشتہ دار بتایا جب کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنید اور خاتون کا دوستانہ تعلق تھا۔خاتون نے جنید کو کال کی اور اورچ جنید سردار شہزاد کے ساتھ موقع پر پہنچا۔سی پی او گوجرانوالہ نے دونوں لڑکوں سے تفتیش کی ہے۔دونوں نے مقدمے میں اپنے نمبر اور پتہ غلط درج کروائے جس کے بعد معاملہ مشکوک ہوگیا۔پولیس نے دونوں افراد کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ خاتون لاہور کی رہائشی تھی جب کہ گجرانوالہ میں اس کا سسرال رہائش پذیر ہے۔پولیس اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے کہ خاتون نے لاہور میں یا گوجرانوالہ میں کسی رشتہ دار سے رابطہ کرنے کے بجائے دوست کے ساتھ رابطہ کیوں کیا۔واضح رہے کہ دو روز قبل لاہور کے علاقے گجرپورہ میں خاتون سے کیساتھ خوفناک واقعہ پیش آیا تھا ، جہاں ملزمان نقدی اور زیورات لوٹنے کے بعد خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے بے آبرو کر کے فرار ہوگئے ، پولیس کی طرف سے معاملے پر تفتیش جاری ہے، سی آئی اے اور انوسٹی گیشن پولیس تاحال ملزمان کا

سراغ نہ لگا سکی ، پولیس نے ریکارڈ یافتہ افراد کو بھی شامل تفتیش کرکے جلد اصل ملزمان کی گرفتاری کی امید ظاہر کی گئی ہے۔،دوسری طرف اس واقعے کے خلاف سوشل میڈیا پر عوام کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے ، اس سلسلے میں قانون سازی اور ملزمان کی سرعام پھانسی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…