پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد لاہور موٹر وے سانحہ ، وزیراعظم کے نوٹس کے بعد بڑی پیشرفت، متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا

datetime 10  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک + این این آئی )14 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان افراد کے ڈی این اے سیمپلز فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، اس کے علاوہ جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ بھی مکمل کر لی گئی ہے، نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں موجود کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف بھی اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، دوسری جانب

کیپٹل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ کا کہنا ہے کہ رنگ روڈ کیس میں 14 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں، 48 گھنٹے میں ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ خاتون رات ساڑھے 12 بجے گوجرانوالہ جانے کیلئے نکلی، خاتون کو گھر سے نکلتے وقت کم ازکم گاڑی میں پٹرول چیک کرنا چاہیے تھا، خاتون نے 15 پر کال کرنے کی بجائے اپنے بھائی کو فون کر کے اطلاع دی، خاتون کے بھائی نے 130 پر موٹروے پولیس کو فون کر کے کہا کہ اپنی موبائل بھجوائیں۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ جس جگہ یہ واقعہ ہوا وہاں 5 کلومیٹر کے علاقے میں 3 گائوں ہیں، ملزمان کے گاڑی کا شیشہ توڑنے سے خون نکلا جس کی وجہ سے ہمارے پاس خون کا نمونہ موجود ہے، تحقیقات میں رورل اور اربن پولیس کی جدید تکنیک کا استعمال کیا جا رہا ہے، اطلاع ملتے ہی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔دوسری جانب سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے خاتون کے ساتھ موٹروے پر پیش آنے وا لے واقعہ پر آئی جی پنجاب کو طلب کرلیا ہے ۔ سینیٹ کمیٹی نے آئی جی پنجاب، اور وزارت مواصلات کو نوٹس جاری کردیا ۔سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا اہم اجلاس 14 ستمبر کو ہوگا ۔ اجلاس مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت ہوگا۔خاتون کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر آئی جی پنجاب اور سیکرٹری مواصلات سے بریفنگ طلب کرلی گئی ہے ۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ

خاتون کی جانب سے موٹروے پولیس کو کی گئی فون کال پر ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔آئی جی پنجاب اور سیکرٹری مواصلات واقعے سے متعلق بریفنگ دیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا معصوم بچی اور خاتون سے افسوسناک واقعہ پردونوں واقعات کا سخت نوٹس لے لیا اور متعلقہ آئی جی صاحبان سے ان واقعات کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمر ان خان نے کہا

ہے کہ خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔ کسی مہذب معاشرے میں ایسی درندگی اور حیوانیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایسے واقعات ہماری سماجی اقدار کے منافی اور سوسائٹی پر بدنما داغ ہیں۔ وزیر اعظم نے واقعے میں ملوث افراد کو

جلد از جلد قانون کی گرفت میں لانے اور قرار واقعی سزا دلوانے کا حکم جاری کیا ہے ۔وزیر اعظم نے معصوم بچوں اور خواتین سے اس طرح کے افسوسناک واقعات کے تدارک کے حوالے سے قوانین کو مزید موثر بنانے کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…