اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

اپوزیشن کا اسمبلیوں سے استعفے،جمہوری عمل ختم کرنے کا فیصلہ، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 7  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی اے پی سی میں اسمبلیوں سے استعفیٰ کا فیصلہ تمام جماعتیں تسلیم کریں گی، اتنی بڑی اپوزیشن کے مستعفی ہونے سے جمہوری عمل ختم ہو جائے گا، شہباز شریف سے کہوں گا کہ خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت کی بات کرتے رہا کریں، حکومت ناکام ہو چکی، عوام کو دوبارہ اظہاررائے کا موقع دیا جائے۔  نجی

ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی ہے۔ نواز شریف جب بیرون ملک گئے تو ان کی حالت کیا تھی سب جانتے ہیں۔ ان کا علاج ابھی پورا نہیں ہوا۔ نواز شریف کو اپنا علاج کروا کر ہی وطن واپس آنا چاہیے۔ سب سے ضروری صحت ہے جبکہ علاج کروانا ان کا حق ہے۔ نواز شریف اپنا علاج کروا کر ہی واپس آئیں گے۔ میڈیکل رپورٹ میں واپسی کی تاریخ نہیں لکھی نواز شریف کی وطن واپسی کا فیصلہ ڈاکٹرز کریں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے بیانیے پر مریم نواز اور شہباز شریف سمیت سب متفق ہیں۔ جس ملک میں انتحابات شفاف نہ ہوں وہاں جمہوریت نہیں چلتی۔ شہباز شریف سے درخواست کرتاہوں کہ خلائی مخلوق کی بات کیا کریں۔ یہ بھی بات کروں گا کہ محکمہ صحت اور زراعت کی بھی بات کیا کریں۔ جب حکومت ناکام ہو جائے تو انتخابات ہی نیا راستہ ہوتا ہے۔ امید ہے اے پی سی میں جو فیصلہ ہو گا تمام جماعتیں تسلیم کریں گی۔ سیاست ناممکن کو ممکن بنانے کے لئے ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو حق ہے کہ اپنے تحفظات کا اظہار کریں۔ ان کا دھرنا صرف ان کی اپنی جماعت کی حد تک تھا۔ حکومت ناکام ہو چکی ہے عوام کو دوبارہ اظہار رائے کا موقع دیا جائے۔ اپوزیشن کی اے پی سی میں اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ ہواتو ہم تیار ہیں۔ اگر اتنی بڑی اپوزیشن استعفی دیدے تو جمہوری عمل ختم ہوجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…