منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

وٹامن ڈی کی کمی کورونا وائرس کا خطرہ بڑھاسکتی ہے  تحقیق میں ہوشربا انکشافات

datetime 6  ستمبر‬‮  2020 |

شکاگو(این این آئی)وٹامن ڈی کی کمی کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھاسکتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ دعوی امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔شکااگو میڈیسین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن افراد کو وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے اور وہ اس کا علاج نہیں کراتے، ان میں کورونا وائرس سے

ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی تشخیص کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوسکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی کے شکاار فراد میں کووڈ 19 کی تشخیص کا خطرہ ایسے افراد کے مقابلے میں 1.77 گنا زیادہ ہوتا ہے جن کے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح مناسب ہوتی ہے، یہ فرق کافی نمایں ہے۔تحقیق میں 489 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں وٹامن ڈی کی سطح کی جانچ پڑتال کورونا وائرس کے ٹیسٹ سے کچھ ماہ پہلے ہوئی تھی۔جن افراد میں وٹامن ڈی کی کمی کو دریافت کیا گیا ان میں کووڈ 19 ٹیسٹ مثبت آنے کا امکان بھی زیادہ دیکھا گیا۔محققین نے بتایا کہ وٹامن ڈی کی کمی اور کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کے خطرے میں تعلق کو دیکھا گیا اور نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کرکے دیکھنا چاہیے کہ وٹامن ڈی کس حد تک کووڈ 19 کے خطرے پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وٹامن ڈی ایک جز زنک کے میٹابولزم پر اثرانداز ہوتا ہے جو کورونا وائرسز کی نقول کی صلاحیت کو گھٹا دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جسم میں وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار انٹرلیوکین 6 کی سطح کو کم کرتی ہے جو کووڈ 19 کے مریضوں میں مدافعتی نظام کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی سے وائرس کی نقول بنانے کی

صلاحیت کم ہونے سے اس کے پھیلا میں بھی کمی آتی ہے۔تاہم محققین نے خبردار کیا کہ اگر وٹامن ڈی جسم میں ورم کو کم کردیتا ہے تو اس سے بغیر علامات والے مریضوں کی شرح بڑھ سکتی ہے جس سے وائرس کے پھیلا کے اثرات کی پیشگوئی مشکل ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کام کرکے دیکھنا چاہیے کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس کس حد تک کورونا وائرس کا شکار ہونے اور اس کی

شدت میں کمی لانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔اس سے پہلے برطانیہ کے 3 اہم ترین طبی اداروں سائنٹیفک ایڈوائزری کمیشن آن نیوٹریشن، نیشنل انسٹیٹوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلینس اور رائل سوسائٹی نے جون میں اپنی اپنی رپورٹس جاری کی تھیں جس میں کورونا وائرس اور وٹامن ڈی کے حوالے سے تفصیلات دی گئی تھیں۔ان تینوں اداروں نے زور دیا کہ لوگوں کو وٹامن ڈی کی تجویز کردہ

مقدار کے حصول کو یقینی بنائیں، جس سے نہ صرف کورونا وائرس کی شدت میں ممکنہ تحفظ مل سکے گا بلکہ یہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔عام حالات میں تو انسان قدرتی طور پر سورج کی روشنی کی مدد سے وٹامن ڈی کو بناتے ہیں، جبکہ مخصوص غذاں جیسے انڈے، چربی والی مچھلی اور گائے کی کلیجی سے بھی اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…