جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے صرف ایک سوال پر تحریک انصاف کے وکیل کے ہوش اڑ گئے

datetime 1  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)اضافی بیلٹ پیپرز،چیف جسٹس کے سوال پر تحریک انصاف کے وکیل کے ہوش اڑ گئے،مبینہ دھاندلی کے انکوائری کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ناصر الملک نے نے تحریک انصاف سے پوچھا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن )کو کیسے دھاندلی سے منسلک کررہے ہیں . پہلے بھی پوچھا دوبارہ پوچھ رہاہوں کیا آپ نے تحریری جواب میں مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایاجبکہ پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو پارٹی اقتدارمیں ہوتی ہے اسکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اقتدارمیں ہی رہے، (ن )لیگ کی پنجاب میں پہلے بھی حکومت تھی اب بھی ہے۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی مبینہ انتخابی دھاندلی کے کمیشن کا اجلاس ہوا چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سے سوال کیا کہ وہ دوبارہ پوچھ رہے ہیں ، کیا آپ نے تحریری جواب میں مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے. آپ بتائیں کہ آپ مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی سے کیسے منسلک کر رہے ہیں اس پر دلائل میں حفیظ پیرزادہ نے موقف اپنایا کہ جتنے ووٹ مسلم لیگ ن کے 2013 ءمیں ہیں یہ 2008 ءکے انتخابات سے زیادہ ہیں ، مسلم لیگ (ن )نے پنجاب سے1کروڑ 10 لاکھ وو ٹ . باقی3 صوبوں سے 20 لاکھ ووٹ بھی حاصل نہیں کیے .جو پارٹی اقتدارمیں ہوتی ہے ا سکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اقتدارمیں ہی رہے،مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں پہلے بھی حکومت تھی اب بھی ہے پنجاب میں 4 سیکرٹریز کو تبدیل نہیں کیا گیا،ایک سیکرٹری کاتعلق محکمہ تعلیم سے تھاجسے تبدیل نہیں کیاگیا، انتخابی عملہ تعلیم کے محکمے سے آتا ہے ¾ریٹرننگ افسران کو ہر چیز کا مکمل اختیاردیا گیا پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات میں نشستوں کے حصول کیلئے پنجاب کو ٹارگٹ بنایا گیا۔ 2008 سے 2013 تک پنجاب بیوروکریسی ن لیگ سے متاثر تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے تمام دلائل کا مرکز مسلم لیگ ن ہے، ہمیں تو پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا میں الیکشن چرانے کے حوالے سے بھی درخواست دی تھی۔ جسٹس اعجاز فضل نے ریمارکس دیے کہ خیبر پختونخوا میں اے این پی کو بھی غیر یقینی شکست ہوئی۔عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ آر اوز کو بیلٹ پیپرز کیلئے کھلی چھٹی دی گئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صرف پنجاب میں آر اوز نے اضافی بیلٹ پیپرز اپنے پاس نہیں رکھے، بلکہ پورے ملک میں آر اوز کے پاس اضافی بیلٹ پیپرز تھے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر کے حلقے میں بے تحاشہ اضافی بیلٹ پیپرز بھجوائے گئے اور بیلٹ پیپرز پرنٹنگ کیلئے لاہور میں اضافی نفری بھجوائی گئی تھی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات کے دوران وہ وفاقی وزیر نہیں بلکہ امیدوار تھے اور اضافی نفری پرنٹنگ کیلئے نہیں بائنڈنگ کیلئے بھجوائی گئی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…