منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے صرف ایک سوال پر تحریک انصاف کے وکیل کے ہوش اڑ گئے

datetime 1  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)اضافی بیلٹ پیپرز،چیف جسٹس کے سوال پر تحریک انصاف کے وکیل کے ہوش اڑ گئے،مبینہ دھاندلی کے انکوائری کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ناصر الملک نے نے تحریک انصاف سے پوچھا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن )کو کیسے دھاندلی سے منسلک کررہے ہیں . پہلے بھی پوچھا دوبارہ پوچھ رہاہوں کیا آپ نے تحریری جواب میں مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایاجبکہ پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو پارٹی اقتدارمیں ہوتی ہے اسکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اقتدارمیں ہی رہے، (ن )لیگ کی پنجاب میں پہلے بھی حکومت تھی اب بھی ہے۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی مبینہ انتخابی دھاندلی کے کمیشن کا اجلاس ہوا چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سے سوال کیا کہ وہ دوبارہ پوچھ رہے ہیں ، کیا آپ نے تحریری جواب میں مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے. آپ بتائیں کہ آپ مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی سے کیسے منسلک کر رہے ہیں اس پر دلائل میں حفیظ پیرزادہ نے موقف اپنایا کہ جتنے ووٹ مسلم لیگ ن کے 2013 ءمیں ہیں یہ 2008 ءکے انتخابات سے زیادہ ہیں ، مسلم لیگ (ن )نے پنجاب سے1کروڑ 10 لاکھ وو ٹ . باقی3 صوبوں سے 20 لاکھ ووٹ بھی حاصل نہیں کیے .جو پارٹی اقتدارمیں ہوتی ہے ا سکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اقتدارمیں ہی رہے،مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں پہلے بھی حکومت تھی اب بھی ہے پنجاب میں 4 سیکرٹریز کو تبدیل نہیں کیا گیا،ایک سیکرٹری کاتعلق محکمہ تعلیم سے تھاجسے تبدیل نہیں کیاگیا، انتخابی عملہ تعلیم کے محکمے سے آتا ہے ¾ریٹرننگ افسران کو ہر چیز کا مکمل اختیاردیا گیا پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات میں نشستوں کے حصول کیلئے پنجاب کو ٹارگٹ بنایا گیا۔ 2008 سے 2013 تک پنجاب بیوروکریسی ن لیگ سے متاثر تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے تمام دلائل کا مرکز مسلم لیگ ن ہے، ہمیں تو پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا میں الیکشن چرانے کے حوالے سے بھی درخواست دی تھی۔ جسٹس اعجاز فضل نے ریمارکس دیے کہ خیبر پختونخوا میں اے این پی کو بھی غیر یقینی شکست ہوئی۔عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ آر اوز کو بیلٹ پیپرز کیلئے کھلی چھٹی دی گئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صرف پنجاب میں آر اوز نے اضافی بیلٹ پیپرز اپنے پاس نہیں رکھے، بلکہ پورے ملک میں آر اوز کے پاس اضافی بیلٹ پیپرز تھے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر کے حلقے میں بے تحاشہ اضافی بیلٹ پیپرز بھجوائے گئے اور بیلٹ پیپرز پرنٹنگ کیلئے لاہور میں اضافی نفری بھجوائی گئی تھی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات کے دوران وہ وفاقی وزیر نہیں بلکہ امیدوار تھے اور اضافی نفری پرنٹنگ کیلئے نہیں بائنڈنگ کیلئے بھجوائی گئی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…