پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

خدارا! اپنی بچیوں پر نظر رکھیں اور ان درندوں سے بچائیں، ڈاکٹر ماہا کے والد کی ہاتھ جوڑ کر والدین سے اپیل

datetime 28  اگست‬‮  2020 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والی ڈاکٹر ماہا کے والد سید آصف علی شاہ نے دیگر والدین سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو بچا کر رکھیں۔ڈاکٹر ماہا علی کے والد نے اس موقع پر بروقت ایکشن لینے پر سندھ پولیس کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے اپنا موقف سننے پر میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔ڈاکٹر ماہا کے والد نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ اس گھناؤنے

کام میں پھنسی کئی بچیوں کی زندگی بچ جائے گی۔ماہا علی کو جس گروہ نے پھنسایا ہوا تھا، مجھے یقین ہے ان کے شکنجے میں اور بھی لڑکیاں آئی ہوں گی۔ ڈاکٹر ماہا کے والد نے کہاکہ کیونکہ ان لوگوں کا نشے کا کاروبار ہے۔ ان کے نشے کا کاروبار ایسے ہی چلتا ہے کہ پہلے بچیوں کو نشے کی عادت ڈالو اور پھر انہیں ٹریپ کرو۔ سید آصف علی شاہ نے کہا کہ اگر کوئی اس دھندے سے نکلنا بھی چاہے تو یہ اسے اتنا ٹریپ کرتے ہیں کہ بچیاں اپنی جان لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ خدارا! وہ اپنی بچیوں کو ان درندوں سے بچائیں اور انہوں نے حکومت اور پولیس سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کو پکڑیں تاکہ آئندہ دنیا سے کوئی اور ماہا نہ جائے۔دوسری جانب ڈاکٹر ماہا کے زندگی کے خاتمے سے متعلق ا ن کے والد آصف علی شاہ نے اپنے ایک ویڈیوبیان میں کہا کہ جنید میری بیٹی کو دھمکاتا تھا، جنید اور ماہا کی شادی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔مجھے میری چھوٹی بیٹی نے ماہا کی زندگی کے خاتمے کے بعد معاملات سے آگاہ کیا، جنید کی بہن مہوش میری بیٹی ماہا کی دوست تھی اور اس نے ماہا کو جنید سے ملوایا تھا۔انہوں نے بتایاکہ جنید میری بیٹی کو دھمکاتا تھا، جنید اور میری بیٹی کی شادی کی خبریں بے بنیاد ہیں، جنید نے میری بیٹی کو زدوکوب بھی کیا اور یہ پورا ایک ریکٹ ہے۔آصف علی شاہ نے بتایا کہ میری بیٹی کو عرفان قریشی کے گھر میں نشہ دیا گیا، اس گروہ کا کام ہی یہ ہی ہے۔یہ گروہ خاندانی لڑکیوں کو نشہ کا عادی بناتا ہے۔واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں نجی اسپتال کی ڈاکٹرماہا کی جانب سے اپنی زندگی ختم کرنے کا واقعہ سامنے آیا تھا جس کے بعد سے پولیس تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر ماہا کی فیملی اور دوستوں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…