پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

بس ریپڈ ٹرانزٹ کے تین فیڈرروٹس پر زو بس سروس کا باقاعدہ افتتاح ،تما م جدید سفری سہولیات سے آراستہ ایک منفرد منصوبہ

datetime 24  اگست‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے حیات آباد میں بس ریپڈ ٹرانزٹ کے تین فیڈرروٹس پر زو بس سروس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ ان تین روٹس میں سے پہلا روٹ مال آف حیات آباد سے براستہ بشارت فیز 6 ٹرمینل ، دوسرا راستہ کارخانو مارکیٹ سے براستہ انڈسٹریل اسٹیٹ فیز 7 ٹرمینل جبکہ تیسرا روٹ مال آف حیات آباد سے براستہ باغ ناران حاجی کیمپ تک جائے گی ۔ ان فیڈر روٹس پر فی الوقت 25 بسیں چلیں گی

جو مسافروں کو حیات آباد کے مختلف علاقوں سے بی آر ٹی کے مین کوریڈرو تک لے آئیں گی ۔ زو بسوں کے اوقات کار صبح 6:00 بجے سے رات10:00 بجے تک ہو گی۔افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے خطاب میں بی آر ٹی پراجیکٹ کو عوامی مفاد کا ایک بہترین پراجیکٹ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ فی الوقت تین فیڈر روٹس کا افتتاح کیا گیا اور عنقریب مزید چار فیڈر روٹس کا افتتاح کیا جائے گا اور بسوں کی تعداد میں مزید توسیع دی جائے گی تاکہ پورے پشاور ریجن کے عوام اس جدید سفری سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ اُنہوںنے کہاکہ بی آر ٹی پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر پر عوام نے بہت تنقید کی مگر عوام نے جتنی تنقید کی اب اُسے کہیں زیادہ تعریف کر رہی ہے ۔ پشاور بی آر ٹی پراجیکٹ تما م جدید سفری سہولیات سے آراستہ ایک منفرد منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشاور کے بی آر ٹی اور دوسرے شہروں کے بی آر ٹی پراجیکٹس میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ دوسرے شہروں کے بی آرٹی منصوبے کسی بھی صورت پشاور بی آر ٹی منصوبے کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے 31 ارب روپے میں 27 کلومیٹر لمبی کوریڈور تعمیر کی ہے جس میں 13 کلومیٹر elevated ہے ، جو لوگ اس منصوبے پر بے جا تنقید کر رہے ہیں ۔ اُنہیں ہم چیلنج دیتے ہیں کہ وہ خود آکر دیکھ لیں تو اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ پشاور کا بی آر ٹی دوسرے شہروں کے بی آر ٹی سے کئی گنا بہتر منصوبہ ہے۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ بی آر ٹی منصوبے کی عوامی مقبولیت اور افادیت کے پیش نظر اس کو مزید توسیع دی جائے گی ۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے کابینہ کے ہمراہ زو بس سروس پر سفر بھی کیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…