بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

شیخوپورہ میں مارے گئے دہشت گرد ”آئی بی“ کے دفتر پرحملہ کرناچاہتے تھے، وزیرداخلہ پنجاب

datetime 1  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ نے کہا ہے کہ شیخوپورہ میں مارے جانے والے دہشت گرد مال روڈ پر واقع انٹیلی جنس بیورو کے دفتر پر خود کش حملہ کرنا چاہتے تھے۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ نے کہا کہ شیخوپورہ میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے۔ دہشت گردوں میں فیصل مبشر کا تعلق فیصل آباد، ثاقب حسین کا راول پنڈی جب کہ نعمان کا ٹانک سے ہے۔ خودکش حملہ آور کی شناخت نہیں ہوسکی، دہشت گردوں نے 5 ماہ تک افغانستان میں دہشت گردی کی
مزیدپڑھیے:شادی شدہ افراد کیلئے تشویشناک خبر،سائنس نے پول کھو ل کر بڑی مشکل میں ڈال دیا
تربیت حاصل کی تھی۔ ان کا ہدف مال روڈ پر آئی بی ہیڈ کوارٹر تھا، اس کارروائی کی منصوبہ بندی میں القاعدہ اور ان کے ممبران شامل تھے۔شجاع خانزادہ نے مزید کہا کہ دہشت گرد فیصل مبشر نے اپنے نام سے 5 ہزار روپے ماہانہ پر گھر کرائے پر لیا تھا۔ 29جون کو انٹیلی جنس اداروں نے مکان پر چھاپہ مارا، جہاں دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک جب کہ ایک نے خود کو خودکش جیکٹ سے اڑا لیا، اس کے علاوہ 2 دہشت گردوں کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا، ان کے قبضے سے 4 خودکش جیکٹس،4 کلاشنکوف اور راکٹ لانچر برآمد ہوئے ہیں۔
مزیدپڑھیے:لوڈشیڈنگ میں روزبروزکمی آرہی ہے ،نوازشریف کادعویٰ
وزیر داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ القاعدہ برصغیر کا سرغنہ بھارتی ہے، جو افغانستان میں ہے، آپریشن ضرب عضب سے بہت کامیابیاں ملی ہیں، پاکستان اورافغانستان میں دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ ہوچکاہے، ملک کے انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کامیاب آپریشن کرکے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنایا جس پر وہ شاباشی کے مستحق ہیں، شیخو پورہ میں کی گئی کارروائی دہشت گردوں کے لئے سبق ہے کہ ان کا خاتمہ قریب ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…