منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں گرمی سے ہلاکتوں کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیئے، وزیراعظم نوازشریف

datetime 1  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں گرمی سے ہلاکتوں کا اس طرح کا سانحہ اس سے قبل پیش نہیں آیا تاہم ہلاکتوں پر ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیئے۔وزیر اعلیٰ ہاو¿س کراچی میں وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس ہوا، جس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، وزیر اعلیی قائم علی شاہ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر اطلاعات پرویزرشید اور دیگر وزرا اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم کو کراچی میں گرمی سے اموات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی کے معاملات میں دلچسپی لینے پر وزیر اعظم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے بتایا کہ شدید گرمی کے باعث 65 ہزار سے زائد مریضوں کو مختلف اسپتالوں میں لایا گیا جب کہ ایک ہزار 250 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ صوبائی حکومت نے متاثرین کی طبی امداد کے لئے ہرممکن اقدمات کئے۔اس موقع پر وزیراعظم نے کراچی میں ہونے والی اموات پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس طرح اموات کی مثال نہیں ملتی، دکھ کی اس گھڑی میں حکومت متاثرہ افراد کے ساتھ ہے۔ اس سانحہ پر تمام متعلقہ ادارے جواب دہ ہیں اور اس کے ذمہ داروں کا شفاف طریقے سے تعین کیا جانا چاہیے، غفلت برتنے والے محکموں کا کڑا احتساب ہوگا۔ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے کراچی میں مجوزہ یلو لائن اور ریڈ لائن بس سروس پر بریفنگ دی، جس پر وزیراعظم کی وفاق کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کی مانیٹرنگ کے لیے کمیٹی بنانے کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکام پر مشتمل یہ کمیٹی منصوبوں کی شفافیت پر نظر رکھے اور ماہانہ بنیادوں پر اپنی رپورٹ پیش کرے۔قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف سے آج ایک روزہ دورے پر کراچی ایئرپورٹ پہنچے تو وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ان کا استقبال کیا جہاں سے وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہلے ڈی جی رینجرز ہاو¿س اور پھر وزیراعلیٰ ہاو¿س پہنچے۔ جہاں انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور گورنر سے الگ الگ ون آن ون ملاقاتیں کیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…