اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

کراچی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت تباہ کیا گیا،تانے بانے  کہاں سے ملتے ہیں ؟مصطفی کمال بھی بول پڑے

datetime 19  اگست‬‮  2020 |

کراچی ( آن لائن ) چیئرمین پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) اور سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وفاقی کراچی کے معاملے میں نہ آئے۔ کراچی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت تباہ کیا گیا، ان سازشوں کے تانے بانے را سے ملتے ہیں جس طرح سندھ کی تقسیم نامنظور ہے اسی طرح کراچی کی تقسیم بھی نامنظور ہے۔احتساب عدالت کراچی میں کلفٹن پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس ک

سماعت  کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ   صوبائی خودمختاری کے نام پر صرف ایک شخص کو اختیار دیا گیا ہے جبکہ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو خودمختاری دی گئی، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نچلی سطح پر اختیارات تقسیم کیوں نہیں کرتے؟ صوبائی خود مختاری ٹاوَن اور کونسلز تک جانی چاہیے۔ کراچی والوں کو تو پینے کے لیے صاف پانی بھی نہیں مل رہا۔چیئرمین پی ایس پی نے کہا کہ سندھ دھرتی ہمارے لیے بھی ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ صوبے پی ایف سی ایوارڈ کیوں نہیں دے رہے؟ کراچی کے تو 6 ٹکڑے کر دیے گئے۔اختیار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اختیارات صوبے کے لوگوں اور یوسیز تک نہیں گئے اور وسائل کی تقسیم تک پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاق کراچی کے معاملات میں نہ آئے  کراچی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت تباہ کیا گیا، ان سازشوں کے تانے بانے را سے ملتے ہیں جس طرح سندھ کی تقسیم نامنظور ہے اسی طرح کراچی کی تقسیم بھی نامنظور ہے۔  کراچی کو ٹھیک کرنے کیلئے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے، صوبوں کو جو وسائل ملے ہیں وہ وزیر اعلی ہاوس تک محدود ہوگئے ہیں۔سربراہ پاک سرزمین پارٹی نے بانی ایم کیوایم کو پھر کراچی کی تباہی کا ذمہ دار ٹہرایا اور اس معاملے کے پیچھے را کی سازش کو بھی بے نقاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کے پاکستان موجودہ طرز حکمرانی کے تحت مزید نہیں چل سکتا ہے، ملک میں الیکٹورل ریفارمز کی ضرورت ہے، کراچی میں بجلی کی بہتری کیلیے دیگر آپشن پر بھی غور کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…