پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

عثمان بزدار کیخلاف نیب تحقیقات کا دائرہ بڑھ کر اثاثوں کی چھان بین تک پہنچ گیا،کتنی جائیدادیں خریدیں یا لیز پر لیں؟ تحقیقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی‎

datetime 12  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف نیب تحقیقات شراب کے لائسنس سے آگے نکل کر اثاثوں کی چھان بین تک جاپہنچی۔قومی احتساب بیورو (نیب) نے عثمان بزدار سے اثاثوں کی تفصیلات بھی مانگ لیں، عثمان بزدارسے جنوبی پنجاب میں مختلف ناموں سے

جائیداد خریدنےکا سوال کیا، رشتہ داروں کے نام پرجائیدادیں بنانے سے متعلق پوچھ گچھ کی گئی، وزیراعلیٰ نے نیب کے سوالات کے جواب دینے کیلئے وقت مانگ لیا جس پر نیب نے عثمان بزدار کو 18 اگست کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔نجی ٹی وی جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سےقومی احتساب بیورو(نیب) کی تحقیقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے نیب لاہور کی 3 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے سوالات کیے۔ وزیراعلیٰ سے جنوبی پنجاب میں مختلف ناموں سےجائیداد خریدنے اور رشتہ داروں کے نام پر جائیدادیں بنانے کے الزام میں بھی پوچھ گچھ کی گئی، نیب نے وزیراعلیٰ اور ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں کاریکارڈ بھی طلب کیا کہ کتنی جائیدادیں خریدیں یا لیز پر لی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سے پوچھا گیا کہ کیا سی ایم پالیسی 2009ء کے مطابق نجی ہوٹل کو لائسنس جاری ہوا؟ جس پر عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں نہیں تھا کہ خلاف قانون اور خلاف ضابطہ لائسنس جاری ہوا لیکن جیسے ہی علم میں آیا نوٹس لےکر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ نیب جو بھی ریکارڈ مانگے گا فراہم کروں گا اور جب بلائیں گے پیش ہوں گا۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ نیب حکام نے یہ بھی پوچھا کہ کیا آپ کے علم میں ہے کہ نجی ہوٹل کےلیے 5 کروڑ روپے رشوت وصول کی گئی؟ جس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے علم میں نہیں کہ کس نے کتنی رشوت لی۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ ہرسوال پرکہتے رہے کہ اس بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے جب کہ انہوں نے سوالات کے جواب دینے کے لیے وقت مانگاہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…