بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

وہ دن گئے جب سب کچھ خاموشی سے کر لیا جاتا تھا

datetime 30  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) سپریم کورٹ نے اسلحہ خریداری کیس میں ہیلی کاپٹرز کی خریداری کے حوالے سے 7 جولائی تک سندھ حکومت سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے ،جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن گزر گئے جب سب کچھ خاموشی سے کر لیا جاتا تھا اب سب کچھ اوپن طریقے سے اور قانون کے مطابق ہی ہوگا۔سرکاری خرانہ مال مفت دل بے رحم نہیں۔ 30 لاکھ روپے عرفان قادر کو کس مد میںدئیے گئے،یہ عوام کا پیسہ ہے اور ادھر ادھر نہیں کیا جاسکتا۔سندھ حکومت قانون کے دائرے میں رہ کر بھی تو خریداری کرسکتی تھی۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دئیے ہیں کہ سندھ حکومت پتہ کرکے بتائے کہ جو ہیلی کاپٹر سندھ حکومت نے خریدے تھے کیا اٹالین فورسز خود بھی استعمال کر رہی ہیں یا صرف ہمیں فروخت کرنے کیلئے بنائے گئے تھے،گزشتہ روز جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت شروع کی تو عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے فاروق ایچ نائیک کو پرائیویٹ کونسل اس کیس میں مقرر کردیا ہے اگلی سماعت پر وہ نہیں ہوں گے۔ایڈیشل ایڈووکیٹ جنرل سندھ عدنان کریم چمن نے عدالت کو بتایا کہ کل 139 فائرٹینڈرز پاکستان انجینئرنگ منگھو پیر کراچی سے لینے تھے اس پر جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ یہ تو پھر اپنے ہوئے، بہرحال کیا قواعد وضوابط کا خیال رکھا گیا جس پر جسٹس جواد نے کہا کہ انہوں نے پیرا رولز کا خیال نہیں رکھا۔اے پی سی آسان کیس تھا پہلے دن ہی پتہ چل گیا کہ سندھ حکومت نے غلط معاہدہ کیا ہے وہ ہم نے کالعدم قرار دے دیا تھا، اب مزید سامان کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ کیسے خریدا گیا،اس پر سندھ حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹرز کی خریداری کے معاملے میں فاروق ایچ نائیک کو وکیل مقرر کیا گیا تھا،عدالت نے پوچھا کہ عرفان قادر کو 30 لاکھ روپے کی فیس کہاں سے دی گئی تھی، عدالت کو بتایا گیا کہ وہ قومی خزانے سے دی گئی۔آئی جی سندھ کے لئے جو فنڈز قائم کیا گیا تھا اس میں سے دی گئی



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…