منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

وہ دن گئے جب سب کچھ خاموشی سے کر لیا جاتا تھا

datetime 30  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) سپریم کورٹ نے اسلحہ خریداری کیس میں ہیلی کاپٹرز کی خریداری کے حوالے سے 7 جولائی تک سندھ حکومت سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے ،جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن گزر گئے جب سب کچھ خاموشی سے کر لیا جاتا تھا اب سب کچھ اوپن طریقے سے اور قانون کے مطابق ہی ہوگا۔سرکاری خرانہ مال مفت دل بے رحم نہیں۔ 30 لاکھ روپے عرفان قادر کو کس مد میںدئیے گئے،یہ عوام کا پیسہ ہے اور ادھر ادھر نہیں کیا جاسکتا۔سندھ حکومت قانون کے دائرے میں رہ کر بھی تو خریداری کرسکتی تھی۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دئیے ہیں کہ سندھ حکومت پتہ کرکے بتائے کہ جو ہیلی کاپٹر سندھ حکومت نے خریدے تھے کیا اٹالین فورسز خود بھی استعمال کر رہی ہیں یا صرف ہمیں فروخت کرنے کیلئے بنائے گئے تھے،گزشتہ روز جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت شروع کی تو عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے فاروق ایچ نائیک کو پرائیویٹ کونسل اس کیس میں مقرر کردیا ہے اگلی سماعت پر وہ نہیں ہوں گے۔ایڈیشل ایڈووکیٹ جنرل سندھ عدنان کریم چمن نے عدالت کو بتایا کہ کل 139 فائرٹینڈرز پاکستان انجینئرنگ منگھو پیر کراچی سے لینے تھے اس پر جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ یہ تو پھر اپنے ہوئے، بہرحال کیا قواعد وضوابط کا خیال رکھا گیا جس پر جسٹس جواد نے کہا کہ انہوں نے پیرا رولز کا خیال نہیں رکھا۔اے پی سی آسان کیس تھا پہلے دن ہی پتہ چل گیا کہ سندھ حکومت نے غلط معاہدہ کیا ہے وہ ہم نے کالعدم قرار دے دیا تھا، اب مزید سامان کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ کیسے خریدا گیا،اس پر سندھ حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹرز کی خریداری کے معاملے میں فاروق ایچ نائیک کو وکیل مقرر کیا گیا تھا،عدالت نے پوچھا کہ عرفان قادر کو 30 لاکھ روپے کی فیس کہاں سے دی گئی تھی، عدالت کو بتایا گیا کہ وہ قومی خزانے سے دی گئی۔آئی جی سندھ کے لئے جو فنڈز قائم کیا گیا تھا اس میں سے دی گئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…