بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

ن لیگ ، پیپلز پارٹی ،جے یو آئی(ف) کی جانب سے حکومت کی حمایت قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے انسداد دہشتگردی بل 2020کی منظوری دیدی

datetime 12  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے انسداد دہشت گردی بل 2020کی منظوری دے دی۔اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون فروغ نسیم نے انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل 2020 پیش کیا،جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا، حکومتی اتحاد کے علاوہ اپوزیشن کی تینوں بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) نے بھی انسداد دہشت گردی بل کی حمایت کی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی ایف اے ٹی ایف قانون سازی پر حکومت کی حمایت کردی، جے یو آئی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پاکستان کا نام آتا ہے تو حکومت اپوزیشن میں فرق نہیں رہتا، ہم بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنا کوئی اور ہے، دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں، دہشت گردی کی ٹھیک وضاحت کی جائے، ہمارا اعتراض قانون سازی کے طریقہ کار پر تھا، قانون سازی کو شفاف ہونا چاہیے تاکہ کل کو ایوان پر حرف نہ آئے، ہم ملک کی خاطر قانون سازی میں حصہ لیں گے، اللہ کرے پاکستان گرے لسٹ سے نکلے اور ہم سرخرو ہوجائیں۔ایوان میں کارروائی کے دوران مسلم لیگ (ن) نے انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل 2020 میں اپنی ترامیم واپس لے لیں، رکن قومی اسمبلی محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ حکومت نے ہماری تجویز کردہ ترامیم شامل کرلی ہیں، چاہتے ہیں کہ پاکستان کا نام ٹیرر فنانسنگ کی لسٹ والے ممالک سے نکلے۔بل سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے بی این پی (مینگل) کے رکن سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ حکومت و اپوزیشن اتفاق رائے میں بی این پی شامل نہیں، ہم جب حکومت کا حصہ تھے تو ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا، ہم آزاد بنچز پر بیٹھے ہیں، ہم چلتی گاڑی کے مسافر نہیں، پہلے تو وضاحت ہونی چاہیے کہ دہشتگردی کیا ہے۔

کیا اس ملک ہے وزرائے اعظم کو دہشتگرد قرار نہیں دیا گیا تھا؟،کیا کسی کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے سے وہ دہشت گرد بن جاتا ہے، شیشہ توڑنے والا دہشتگرد بن جاتا ہے اور آئین توڑنے والا نہیں، پہلے آئین توڑنے والے کو دہشت گرد قرار دیں پھر ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بل کی حمایت پر وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ایف ایٹی ایف قانون سازی پر حمایت کے لیے اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، آج کا دن بہت اچھا ہے، پاکستان کے لیے حکومت و اپوزیشن ایک ہوگئے، یہ طے ہونا چاہیے کہ دہشتگردی اور اسلام میں زمین آسمان کا فرق ہے، پاکستان کی معیشیت کو بلیک سے وائٹ ہونا چاہیے، پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ منی لانڈرنگ سے متعلق سخت قوانین ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…