اتوار‬‮ ، 01 فروری‬‮ 2026 

انتہا پسند نریندر مودی نے رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا، بابری مسجد کل بھی مسجد تھی، آج بھی مسجد ہے ، انشاء اللہ آئندہ بھی مسجد رہےگی ،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکا دبنگ اعلان

datetime 5  اگست‬‮  2020 |

نئی دہلی(آن لائن)بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے ایودھیا میں منہدم تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھ دیا۔وزیر اعظم مودی نے رام مندر کی تعمیر کے لیے پہلی اینٹ بنیاد میں رکھی۔ اس دوران وہاں موجود لوگوں نے تالیا ں بجائیں اور ‘ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے لگائے۔

خصوصی طور پر تیار 40 کلوچاندی کی اینٹیں بھی بنیاد میں رکھی گئیں۔اس موقع پر 175 منتخب افراد موجود تھے۔ جن میں ہندووں کے مختلف پنتھ (مسلک) کے بڑے پنڈتوں کے علاوہ ہندوقوم پرست جماعت اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ، گورنر آنندی بین، یوگا گرو بابا رام دیو اور آرٹ آف لیونگ کے بانی روی روی شنکر شامل تھے۔ مودی نے سربسجود ہوکر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔مودی کے ذریعہ سنگ بنیاد رکھے جانے پر مختلف حلقوں اور بالخصوص سول سوسائٹی نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عہدے پر فائز ایک شخص کوکسی مخصوص مذہب کی تقریب میں اس طرح حصہ لینا درست نہیں ہے اور وزیر اعظم مودی نے عہدے کے حلف لیتے وقت ملکی آئین اور قانون کا احترام کرنے کا جو عہد کیا تھا، ان کا یہ قدم،اس کے برخلاف ہے۔خیال رہے کہ بھارت میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے تنازعہ نے ملک کی سیاست یکسر تبدیل کر کے رکھ دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کا سیکولر کردار ختم ہوتا جارہا ہے اور بھارت ایک ہندو راشٹر کی جانب گامزن ہے۔

بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں رام مندر کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔دریں اثنا بھارتی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کل بھی مسجد تھی، آج بھی مسجد ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی مسجد رہے گی۔ مسجد میں مورتیاں رکھ دینے سے،پوجا پاٹ شروع کر دینے سے یا ایک طویل عرصے تک نماز پر روک لگا دینے سے مسجد کی حیثیت ختم نہیں ہو جاتی۔

مولانا رحمانی کا مزید کہنا تھا ’’رام مندر کی تعمیر کے حوالے سے ہندوتوا عناصر کی پوری تحریک ظلم، جبر، دھونس، دھاندلی، کذب اور افتراء پر مبنی تحریک تھی۔ یہ سراسر ایک سیاسی تحریک تھی جس کا مذہب یا مذہبی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔” آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے ’’بابری مسجد تھی، ہے اور رہے گی۔ انشاء اللہ۔” اس کے ساتھ ہی انھوں نے بابری مسجد اور بابری مسجد کے انہدام کی ایک ایک تصویر بھی شیئر کی ہے۔

موضوعات:



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…