اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں سیاحت کاشعبہ کورونا وائرس کی وباء سے شدیدمتاثر عالمی بینک نے بحالی کیلئے اپنی تجاویز سامنے رکھ دیں

datetime 17  جولائی  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن ) عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی عالمگیر وباء  کے اثرات سے متاثرہ سیاحت کے شعبہ کی بحالی کیلئے سرکاری اورنجی شعبہ کو مل کراقدامات کرنا ہوں گے۔یہ بات پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرالانگوپیچوموتونے  ٹویٹر پیغام اور منسلکہ آرٹیکل میں کہی ہے۔انہوں نے کہاکہ سفری پابندیوں اور

رکاوٹوں کے خاتمہ کے بعد پاکستان میں سیاحت کاشعبہ جو کورونا وائرس کی وباء  سے متاثر ہواہے، کی بحالی اوروباء  کے اثرات سے اسے نکالنے کیلئے پاکستان کے سرکاری اورنجی شعبہ کو مل کراقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سیاحت کا شعبہ اہمیت کا حامل ہے، دسمبر2019ء  میں پاکستان نے سیاحت کے حوالہ سے بہترین مقامات کی کوندے ناستے فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال نومبرمیں کرتارپورراہداری کے زریعہ ہزاروں سکھ یاتریوں نے دربارصاحب اورننکانہ میں باباگرونانک کے جنم آستھان کادورہ کیا،اس کے علاوہ پاکستان اب 5 کروڑ اندرونی سیاحت کی مارکیٹ بھی بن چکاہے، پاکستان میں سیاحت کرنے والا اوسط خاندان کم سے کم 5 افراد پرمشتمل ہوتاہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ سال ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے پاکستان آمد پرویزہ کی فراہمی سمیت کئی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے مزیدکہاکہ کووڈ۔ 19 کی وباء  سے عالمی سطح پرسیاحت کاشعبہ اوراس سے جڑے چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبارکو300 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہواہے، پاکستان بھی دیگرممالک سے مختلف نہیں ہے، پاکستان میں بھی سیاحت اوراس سے جڑے چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبارکونقصان پہنچاہے جس کے اثرات سے نمٹنے کیلئے ملک کے سرکاری اورنجی شعبہ کو مل کراقدامات کرنا ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…