اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

چوری کے واقعے پر عدالت کا انصاف و عدل پر مبنی فیصلہ،جج کے الفاظ نے حاضرین اور چوری کے الزام میں پکڑے گئے لڑکے کو بھی زار و قطار رُلا دیا

datetime 14  جولائی  2020 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کچھ عرصہ قبل بیرون ملک ایک لڑکا سٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا، گارڈ نے پکڑ لیا اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور اسی کوشش اور مزاحمت میں سٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹ گیا، عدالت لگی جج نے لڑکے پر لگائی گئی فرد جرم سنی اور اس سے پوچھا تم نے واقعی کچھ چرایا تھا، جس پر لڑکے نے چوری کا اعتراف کرتے ہوئے مختصر جواب دیا، بریڈ اور پنیر کا پیکٹ۔ جج نے پوچھا کیوں؟

لڑکے نے کہا مجھے ضرورت تھی، جس پر جج نے کہا کہ خرید لیتے، لڑکے نے جواب دیا پیسے نہیں تھے۔ جج نے کہا گھر والوں سے لے لیتے، لڑکے نے جواب دیا گھر پر صرف ماں ہے جو بیمار اور بے روزگار ہے۔ اپنی ماں کے لئے ہی بریڈ اور پنیرچرائی تھی۔جج نے پوچھا تم کوئی کام نہیں کرتے، پندرہ سالہ لڑکے نے جواب دیا ایک کار واش میں کام کرتا تھا۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔ اس پر جج نے کہا کہ تم کسی سے مدد مانگ لیتے، لڑکے نے جواب دیا صبح سے مانگ رہا تھا کسی نے مدد نہیں کی۔ جرح ختم ہو گئی اور جج نے اپنا فیصلہ سنانا شروع کر دیا۔ جج نے کہا کہ چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں، مجھ سمیت عدالت میں موجود ہر شخص اس چوری کا مجرم ہے۔جج نے فیصلے میں کہا کہ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ کوئی شخص دس ڈالر ادا کئے بغیر عدالت سے باہر نہیں جاسکتا۔جج نے یہ الفاظ کہے اور اپنی جیب سے دس ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیے۔جج نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ سٹور انتظامیہ پرہزار ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو عدالت سٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔فیصلے کے آخر میں کہا گیا کہ سٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے

کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی مانگتی ہے۔عدالت میں موجود حاضرین کی آنکھوں میں فیصلہ سننے کے بعد آنسو تھے ہی لیکن اس پندرہ سالہ لڑکے کی رونے سے ہچکیاں بندھ گئیں اور اس موقع پر وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ کفر کے معاشرے نے اسلامی عدل و انصاف کو اپنے اوپر لاگو کیا ہوا ہے جبکہ ہمارے ملک میں پولیس ہاتھ ڈالتی ہے تو غریب کاغذ چننے والے پر، غریب دیہاڑی دار مزدور پر ان کا قصور نہ بھی ہو تو انہیں قصور وار ٹھہرا دیا جاتا ہے اور امیر بے شک اس ملک کو لوٹ کر کھا جائے اس کو سلیوٹ کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…