ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

’’اصلی ایودھیا نیپال میں ہے اور رام کا جنم بھی یہاں ہی ہوا تھا ‘‘ نیپال کے وزیر اعظم نے بی جے پی کے دعوے کومسترد کردیا ،اہم انکشافات

datetime 14  جولائی  2020 |

کھٹمنڈو(این این آئی) نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں رام کی جائے پیدائش پر بابری مسجد کی تعمیر کے مودی کی زیرقیادت ہند وانتہا پسند حکومت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل ایودھیا بھارت میں نہیں بلکہ نیپال میں موجود ہے اوررام کی پیدائش جنوبی نیپال کے علاقے تھوری (Thori)

میں ہوئی تھی۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کے پی شرمااولی نے دارالحکومت کھٹمنڈو میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ میں نیپالی شاعر Bhanubhaktaکی یوم پیدائش کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں بھارت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ نیپال ثقافتی یلغار کا شکار بن گیا ہے اور اس کی تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے۔Bhanubhakta 1814 میں مغربی نیپال کے علاقے تنہو میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے والمیکی کی رامائن کا نیپالی زبان میں ترجمہ کیاتھا۔ 1868 میں ان کا انتقال ہواتھا۔انہوںنے کہاکہ اصلی ایودھیا نیپال میں برگنج کے مغربی علاقے تھوری میں واقع ہے تاہم بھارت غلط طور پرایودھیا کو رام کی جائے پیدائش قراردے رہا ہے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ دیوی سیتا نے رام سے شادی کی تھی اور ایودھیا دراصل مغربی برگنج کا ایک گائوں ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب مواصلات اور ٹرانسپورٹ کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اتنی دور دونوں کی شادی ہونا ممکن نہیں ۔ وزیر اعظم اولی کے حوالے سے انکے پریس ایڈوائزر سوریا تھاپا نے کہاہے کہ برگنج کے قریب تھوری نامی جگہ اصلی ایودھیا ہے ، جہاں رام کا جنم ہوا تھا۔ ہندوستان میں ایودھیا پر بڑا تنازعہ ہے لیکن ،نیپال کے ایودھیا پر کوئی تنازعہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہ چونکہ دشراتھ نیپال کا حکمران تھا ، یہ فطری بات ہے کہ ان کا بیٹا رام بھی نیپال میں پیدا ہوا تھا۔ لہذا اصلی ایودھیا نیپال میں ہے ۔کے پی شرما اولی نے کہا کہ بہت سی سائنسی ایجادات اور علم کی ابتدا نیپال میں ہوئی ہے ، لیکن بدقسمتی سے یہ روایت بعد میں جاری نہیں رہ سکی۔بی جے پی کے ترجمان بزائے سونکر شاستری نے نئی دلی میں میڈیا کو بتایا کہ رام ہمارے لئے یقین کا معاملہ ہے ، اور لوگ کسی کو بھی چاہے وہ ، نیپال کا وزیر اعظم ہو یا کوئی اور اس کے ساتھ کھلواڑ کی اجازت نہیں دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…