بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

چوہدری شجاعت آدھی بات کرکے ہمیں لب کشائی پر مجبور نہ کریں،چوہدری برادران کو بھیجنے والے کون تھے؟ حافظ حسین احمد نے خاموشی توڑ دی

datetime 10  جولائی  2020 |

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ چوہدری برداران ہماری امانت کے متعلق آدھی بات کرکے ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم پوری بات کے لیے لب کشائی کریں، آزادی مارچ کے مذاکرات کے حوالے سے جو امانت چوہدری برادران کے پاس ہے وہ اس سے قوم کو آگاہ کریں۔ چوہدری شجاعت کے آزادی مارچ کے متعلق بیان پر ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے

جے یو آئی کے ترجمان حافظ حسین احمد نے کہا کہ ”چوہدری شجاعت کہہ رہے ہیں کہ ہم آزادی مارچ والوں کے درمیان اس لیے آئے تھے کیوں کہ کچھ لوگ آزادی مارچ والوں پر طاقت کا استعمال کرنا چاہتے تھے جس پرچوہدری پرویز الٰہی نے عمران خان کوایسا کرنے سے روکا“ حافظ حسین احمد نے کہا کہ چوہدری شجاعت نے سچ کا ایک حصہ بتایا ہے وہ آدھی بات کرنے کے بجائے پورا سچ بتائیں اور جو امانت ان کے پاس ہے اس کے متعلق پوری قوم کو آگاہ کریں آدھی بات کرکے ہمیں لب کشائی کے لیے مجبور نہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ عمران خان کا ریمورٹ کنٹرول چوہدری برادران نہیں بلکہ کوئی اور ہے، چوہدری برادران کو جنہوں نے ہمارے پاس بھیجا اور انہوں نے چوہدری برادران سے کہا کہ عمران خان بات کریں تویہ اور بات ہے لیکن اس کی ضرورت نہیں پڑنی چاہئے تھی کیوں کہ نکے کو خود ہی وہ آرڈر کردیتے ہیں انہیں کسی اور کی ضرورت نہیں پڑتی،انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران کو جنہوں نے آزادی مارچ کے وقت بات چیت کے لیے بھیجا تھا اور جو کچھ طے ہوا تھا چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی نے کہہ دیا تھا کہ جو کچھ طے ہوا ہے وہ ہمارے پاس امانت ہے تواب اس امانت کے حوالے سے قوم کو آگاہ کیا جائے کہ اب اس کی کیا پوزیشن ہے کیوں کہ ان کی اپنی امانتیں جو حکومت کے ساتھ طے تھیں وہ بھی خطرے میں نظر آرہی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس لیے اس

امانت کے متعلق بات نہیں کرسکتے کیوں کہ ہمیں منع کیا گیا ہے اگرہمیں مجبور کیا گیا اور پارٹی نے اجازت دی تو جو اصل بات ہے وہ کہنا ہی پڑے گی لیکن اس کے باوجود جو سیاسی سمجھ بوجھ والے لوگ ہیں یقینا انہیں اصل امانت کے متعلق جو بات ہے سمجھ آچکی ہے اب اس کا کوئی اقرار کرے یا نہ کرے لیکن آدھی بات کرکے ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم بھی کبھی لب کشائی کرسکیں، جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ چوہدری برادران کو جن

لوگوں نے مذاکرات کے لیے بھیجا تھا وہ عمران خان نہیں بلکہ ”وہ“ تھے کیوں کہ عمران خان نے تو پرویز خٹک اور اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر کو مذاکرات کے لیے نامزد کیا تھا یقینا چوہدری برادران کو بھیجنے والے عمران خان نہیں بلکہ ”وہ“ تھے، انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران سے مذاکرات کے بعد ہی اپوزیشن کے جو رہنما پہلے ہی نیم دلی کے ساتھ ہمارے ساتھ چلنے کی بات کررہے تھے انہوں نے بھی اس بات کو سامنے رکھ کر ہم سے فاصلے رکھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…