ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

خلیجی ریاستوں میں انفیکشن کی شرح میں اضافہ، سعودی عرب میں متاثرین کی تعداد2 لاکھ سے تجاوزکر گئی

datetime 5  جولائی  2020 |

دبئی/ریاض (این این آئی)سعودی عرب میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ پڑوسی متحدہ عرب امارات میں بھی 50 ہزار سے زیادہ متاثرین موجود ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پچھلے مہینے عرب کی دو بڑی معیشتوں میں مکمل طور پر کرفیو اٹھائے جانے کے بعد نئے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مارچ کے وسط سے ہی دونوں ممالک میں پابندیاں عائد تھیں اور پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد تجارت،

کاروبار اور عوامی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا موقع ملا ہے۔سعودی عرب میں چھ خلیجی ریاستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کورونا متاثرین موجود ہیں۔گزشتہ روز مملکت میں 4100 سے زیادہ مریض رپورٹ ہوئے جس کے بعد سعودی عرب میں متاثرین کی مجموعی تعداد 205،929 ہوگئی ہے۔مملکت میں اب تک کورونا وائرس سے 1858 اموات ہو چکی ہیں۔یومیہ متاثرین کی تعداد میں پہلی بار جون کے وسط میں 4000 سے زیادہ کا اضافہ ہوا لیکن اب اس تعداد میں کمی آ رہی ہے۔متحدہ عرب امارات، جہاں حال ہی میں مئی کے آخر میں یومیہ متاثرین کی شرح تقریباً 900 سے کم ہو کر 300 سے 400 کے درمیان رہ گئی تھی، وہاں بھی جمعے کے روز 600 سے زیادہ اور سنیچر کو 700 سے زیادہ مریض رپورٹ ہوئے۔متحدہ عرب امارات میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 50857 ہو گئی ہے اور اب تک اس وائرس سے 321 افراد ہلاک ہو چکے ہیں،اس خطے میں کاروبار اور سیاحت کے مرکز دبئی کو بیرونی سیاحوں کے لیے 7 جولائی سے کھولا جا رہا ہے۔دوسرے خلیجی ممالک نے بھی پابندیوں میں نرمی کی ہے جبکہ کویت نے جزوی کرفیو برقرار رکھا ہے اور قطر، بحرین اور عمان نے کسی قسم کی کوئی پابندیاں عائد نہیں کیں۔ سعودی عرب میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ پڑوسی متحدہ عرب امارات میں بھی 50 ہزار سے زیادہ متاثرین موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…