اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

نئے ٹیسٹ کے ذریعے ایبولا کی تشخیص اب منٹوں میں ممکن

datetime 27  جون‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک ) ماہرین نے ایبولا وائرس کا پتا لگانے کے لیے ایک تیز رفتار بلڈ ٹیسٹ وضع کیا ہے جو ہاتھوں ہاتھ نتائج فراہم کرتا ہے اور افادیت میں لیبارٹری میں کیے گئے باقاعدہ ٹیسٹ کی طرح مثر ہے۔
امریکی ماہرین کی جانب سے رواں سال ایبولا کے 106 مشتبہ مریضوں پر یہ طریقہ آزمایا گیا جس میں پولیمریز چین ری ایکشن (پی سی آر) کے عمل سے بھی مدد لی گئی اور اس کے بعد خون کے 284 نمونوں کی آزمائش کی گئی جن میں مکمل خون اور پلازما کو ایبولا کے لیے جانچا گیا اس طرح ایبولا کے روایتی ٹیسٹ میں بیماری کی تصدیق ہونے والے افراد کو 96 فیصد درست انداز میں تشخیص کرلیا گیا جب کہ اس میں کئی دنوں کے بجائے صرف چند منٹ کا وقت لگا۔
ماہرین کا کہنا ہے اس سلسلے میں یہ پہلا مطالعہ ہے جو سالماتی (مالیکیولر) ٹیسٹ کی طرح تیز رفتار اور قابلِ اعتبار ہے اور خصوصا پسماندہ افریقی ممالک کے لیے نہایت موزوں ہے جہاں سیرالیون سے ایبولا کی وبا پھوٹی تھی جب کہ اس سے قبل ایبولا ٹیسٹ کے نتائج میں کئی دن صرف ہوتے تھے تاہم اب اس جدید ٹیسٹ کے ذریعے لاکھوں افراد کی جان بچائی جاسکے گی۔
دوسری جانب ٹیسٹ کی تفصیلات بین الاقوامی طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہوئی ہیں جسے ریپڈ ڈایئگنوسٹک ٹیسٹ یا آرٹی ڈی کا نام دیا گیا ہے جب کہ اس کے لیے ایک مختصر ٹیسٹنگ کٹ بھی تیار کرلی گئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…