منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

’’ آپ سے ریلوے نہیں چل رہی ہے، چھوڑدیں ریلوے‘‘ریلوے کا سسٹم کرپٹ ہوچکا، جانیں جاتی ہیں یا کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔۔چیف جسٹس نے شدید  برہم ہوتے ہوئے کیا بڑا حکم جاری کر دیا 

datetime 12  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریلوے ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ ریلوے کا سسٹم کرپٹ ہوچکا ہے اس میں یا تو جانیں جاتی ہیں یا پھر خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ریلوے ملازمین کی سروس مستقلی کے حوالے سے دائر مختلف

درخواستوں کی سماعت کی جس سلسلے میں سیکرٹری ریلوے عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے سیکرٹری ریلوے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دور میں ریلوے کے کتنے حادثے ہوئے ہیں، آپ سے ریلوے نہیں چل رہی ہے، چھوڑدیں ریلوے، آج سے آپ سیکرٹری ریلوے نہیں ہیں، پرسوں جو نقصان ہوا بتا دیں اس کی ذمہ داری کس کی ہے۔چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ میں وفاقی ملازم ہوں کہیں اورچلا جاؤں گا۔اس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں کرسی میں بیٹھ کر کام کریں، فیلڈ پر جا کر اپنے ملازمین کو دیکھیں، ریلوے کا سسٹم کرپٹ ہوچکا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ریلوے میں ٹوٹل کتنے ملازمین ہیں، اس پر سیکرٹری نے بتایا کہ ریلوے میں 76 ہزار ملازمین ہیں، 142 مسافر ٹرینیں اور 120 گڈز ٹرینیں چل رہی ہیں، اس وقت کرونا کی وجہ سے 43 مسافر ٹرینیں فعال ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ نے 76 ہزار ملازمین رکھے ہیں، ریلویکا نظام چلانے کیلئے تو 10 ہزار کافی ہیں، آپ کی ساری فیکٹریاں اور کام بند پڑا ہوا ہے تو یہ ملازمین کیا کر رہے ہیں۔سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ 6 نکات پراصلاحات کررہے ہیں، 76 ہزار ملازمین کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا ہی موجود نہیں ہے۔سیکرٹری کے جواب پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمارے سامنے تقریر نہ کریں ہمیں سب پتہ ہے ریلوے میں کیا ہورہا ہے، ریلوے میں یا تو جانیں جاتی ہیں یا پھر خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔عدالت نے ایک ماہ میں ریلوے سے متعلق آپریشن اور ملازمین کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…