پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

کس بلڈ گروپ کےحامل افراد کرونا وائرس کے زیاد ہ اور کم شکار ہو رہے ہیں؟نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 10  جون‬‮  2020 |

کیلی فورنیا(این این آئی)ایک نئی تحقیق میں کہاگیاہے کہ خون گروپ او کے حاملین کرونا وائرس کا کم شکار ہورہے ہیں اور ہوئے ہیں جبکہ بی اور اے، بی خون گروپ کے حامل افراد کرونا وائرس کا زیادہ شکار ہوئے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق بائیو ٹیکنالوجی کی ٹیسٹنگ کمپنی 23اینڈ می نے یہ تحقیقات کیں۔اس کے مطابق کسی فرد کے خون کا گروپ یہ تعیّن کرسکتا ہے کہ وہ کس حد تک کرونا وائرس کی زد میں آئے گا۔

اس کمپنی نے اس تحقیق میں 750000 شرکاء سے حاصل کردہ نتائج استعمال کیے ہیں۔اس نے آن لائن پوسٹ کیے گئے اپنے تحقیقی نتائج میں بتایا کہ خون گروپ او والے افراد دوسرے گروپوں کے مقابلے میں کرونا وائرس سے زیادہ محفوظ ہیں۔ان کا دوسروں کے مقابلے میں 9 سے 18 فی صد تک کم امکان ہے کہ ان کا کووِڈ19 کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آئے گا۔23اینڈ می کی تحقیق کے مطابق بی اور اے بی خون گروپوں کے حاملین کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔اس گروپ سے تعلق رکھنے والے جن جواب دہندگان نے اس سروے میں حصہ لیا ہے، ان میں کووِڈ19 کے مثبت ٹیسٹ کی شرح سب سے زیادہ تھی۔ خون گروپ اے والے ان دونوں کے درمیان ہیں۔اس مطالعہ سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ایک فرد کے خون کا گروپ اگر منفی بی یا مثبت بی ہے تو ایسے افراد کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی شرح میں کوئی نمایاں فرق نہیں تھا۔اس کے مطابق بی یا اے بی نیگٹو یا پازیٹو بلڈ گروپ کے افراد میں کرونا وائرس کا شکار ہونے کی شرح قریب قریب برابر ہی پائی گئی ہے اور یہ نہیں ہوا کہ مثبت خون گروپ والے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور منفی والوں کی تعداد کم رہی ہے۔ہر دو قسم کے خون گروپ کے افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہوئے ہیں اور ہوسکتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…