منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کس بلڈ گروپ کےحامل افراد کرونا وائرس کے زیاد ہ اور کم شکار ہو رہے ہیں؟نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 10  جون‬‮  2020 |

کیلی فورنیا(این این آئی)ایک نئی تحقیق میں کہاگیاہے کہ خون گروپ او کے حاملین کرونا وائرس کا کم شکار ہورہے ہیں اور ہوئے ہیں جبکہ بی اور اے، بی خون گروپ کے حامل افراد کرونا وائرس کا زیادہ شکار ہوئے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق بائیو ٹیکنالوجی کی ٹیسٹنگ کمپنی 23اینڈ می نے یہ تحقیقات کیں۔اس کے مطابق کسی فرد کے خون کا گروپ یہ تعیّن کرسکتا ہے کہ وہ کس حد تک کرونا وائرس کی زد میں آئے گا۔

اس کمپنی نے اس تحقیق میں 750000 شرکاء سے حاصل کردہ نتائج استعمال کیے ہیں۔اس نے آن لائن پوسٹ کیے گئے اپنے تحقیقی نتائج میں بتایا کہ خون گروپ او والے افراد دوسرے گروپوں کے مقابلے میں کرونا وائرس سے زیادہ محفوظ ہیں۔ان کا دوسروں کے مقابلے میں 9 سے 18 فی صد تک کم امکان ہے کہ ان کا کووِڈ19 کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آئے گا۔23اینڈ می کی تحقیق کے مطابق بی اور اے بی خون گروپوں کے حاملین کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔اس گروپ سے تعلق رکھنے والے جن جواب دہندگان نے اس سروے میں حصہ لیا ہے، ان میں کووِڈ19 کے مثبت ٹیسٹ کی شرح سب سے زیادہ تھی۔ خون گروپ اے والے ان دونوں کے درمیان ہیں۔اس مطالعہ سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ایک فرد کے خون کا گروپ اگر منفی بی یا مثبت بی ہے تو ایسے افراد کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی شرح میں کوئی نمایاں فرق نہیں تھا۔اس کے مطابق بی یا اے بی نیگٹو یا پازیٹو بلڈ گروپ کے افراد میں کرونا وائرس کا شکار ہونے کی شرح قریب قریب برابر ہی پائی گئی ہے اور یہ نہیں ہوا کہ مثبت خون گروپ والے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور منفی والوں کی تعداد کم رہی ہے۔ہر دو قسم کے خون گروپ کے افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہوئے ہیں اور ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…