بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کرونا وائرس ! گلی محلوں میں بیچتے لوگوں سے فیس ماسک خریدنے میں انتہائی احتیاط کریں ،یہ کس حد تک خطرناک ہو سکتا ہے ، ماسک بیچنے والے شخص نے استعمال شدہ ماسک سڑک سے اٹھا کر بیچنا شروع کر دیے‎

datetime 8  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس پاکستان میں تیزی کیساتھ پھیلنا شروع ہو گیا ، کیسز میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مریض سامنے آرہے ہیں ، ایسے میں فیس ماسک کا استعمال عوام نے تیز کر نا بھی شروع کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے ۔ سڑک ، گلی اور محلوں سے فیس ماسک خریدتے وقت احتیاط ضرور کریں

ورنہ وہ ماسک آپ کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ماسک فروخت کرنے والا شخص کو سڑک پر پڑے ماسک اٹھا کر لوگوں میں فروخت کرتے دیکھا جاسکتا ہے ۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے پھیری لگا کر ماسک فروخت کرنے والے شخص کو سڑک پر پڑے ماسک نظر آئےجس وہ اٹھا کر صاف کر کے گاڑی والے کو فروخت بھی کر رہا ہے ۔عوام سے گزارش ہے کہ کرونا وائرس کی بڑھتی تباہ کاریوں میں جہاں اپنا بچائو ضروری ہے وہاں آپ ہر شہ کو اچھی طرح دیکھ سمجھ کر خریدیں تاکہ وہ آپ کی زندگی کیلئے خطرہ نہ بنے خاص کر فیس ماسک جب بھی خریدیں تو یہ اچھی طرح طے کر لیں کہ وہ بالکل نیا اور اور اس پر کسی قسم کی میل کا یا داغ نہ ہو ۔ عوام اپنا استعمال کردہ ماسک اچھی طرح سے ضائع کرے تاکہ وہ کسی بھی طریقے سے کوئی دوسرا شخص استعمال نہ کرسکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…