پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

آندھی میں لگنے والی خوفناک آگ سے 70 باڑے جل گئے، 65 جانور ہلاک، بڑی تعداد میں مویشی لاپتہ 

datetime 5  جون‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں گزشتہ رات گردوغبار کے شدید طوفان اور زور دار آندھی کے دوران کیٹل کالونی میں لگنے والی خوفناک آگ سے چھوٹے بڑے 70 باڑے جل گئے جن کے مجموعی طور پر 65 جانور ہلاک، درجنوں زخمی اور بڑی تعداد میں مویشی لاپتہ ہوگئے۔ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر کے مطابق گزشتہ رات جب کراچی اور

گردونواح میں طوفان اور شدید آندھی آئی تو اس دوران سرجانی ٹاون کی کیٹل کالونی میں تاجر عاطف قادری کے بھینسوں کے باڑے کے ایک چھپڑے میں کسی وجہ سے آگ لگ گئی۔انہوں نے بتایا کہ شدید آندھی جلتے ہوئے چھپڑے کو اڑاتے ہوئے دور تک لے گئی جس سے آگ نے آس پاس کے دوسرے باڑوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا یوں ہر طرف آگ ہی آگ دکھائی دے رہی تھی جس پر مقامی لوگوں کی جانب سے قابو پانے کی ناکام کوششیں کی گئیں اور آگ پھیلتی ہی رہی۔شاکر عمر کے مطابق فائر برگیڈ کا عملہ وقت پر نہیں پہنچا، تاخیر سے آنے کے باوجود آگ بجھانے والی ایک گاڑی نے کام کیا جبکہ دوسری فائربریگیڈ خراب ہوگئی۔شاکر عمر کے مطابق فائر بریگیڈ کی جانب سے میڈیا اور اعلیٰ حکام کو آگ بجھانے کیلئے 5 گاڑیاں پہنچنے کے اطلاعات دی جاتی رہیں،ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ کی ہدایات پر واٹر بورڈ کے 18 واٹر ٹینکرز آگ بجھانے کیلئے بھیجے گئے۔ایسوسی ایشن نے پاکستان رینجرز، سندھ پولیس، ایدھی فاؤنڈیشن، چھیپا ویلفیئراور دیگر سماجی کارکنان کے کام کی تعریف کی اور شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ڈیری فارمرز کا ساتھ دیا۔پولیس کے مطابق آتشزدگی سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے تاہم سب سے پہلے آگ کا نشانہ بننے والے باڑے کے

مالک عاطف قادری کے مطابق ان کے 80 مویشی آگ کا نشانہ بنے، جن میں سے زیادہ تر ہلاک ہوئے، کچھ شدید جھلس گئے اور کچھ لاپتہ ہوئے۔ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ آتشزدگی سے مویشیوں کے چھوٹے بڑے 70 باڑے جلے جبکہ 65 سے زائد جانور ہلاک ہوئے اور زخمی ہونے والے مویشیوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔شاکر عمر کے مطابق آگ کے خوف سے بھاگنے والے بیشتر مویشی اب آہستہ آہستہ مالکان کو مل رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلال کالونی پولیس نے ساڑھے تین بجے انہیں ایک لاپتہ جانور تلاش کرکے دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…