جمعرات‬‮ ، 30 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان میں رواں سال مئی کے مہینے میں ریاست مخالف تشدد کی کارروائیاں بڑھ گئیں

datetime 2  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان میں رواں سال مئی کے مہینے میں ریاست مخالف تشدد کی کاروائیاں بڑھ گئیں۔ اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پکس) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مئی میں ریاست مخالف جنگجو حملوں میں 100 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اپریل میں 9 کارروائیوں کے مقابلے میں مئی کے دوران ملک میں ریاست مخالف تشدد کی

کارروائیوں کے اٹھارہ واقعات پیش آئے۔مختلف واقعات کے دوران 18 سویلین اور 16 سیکیورٹی فورسز سمیت 34 افراد مارے گئے جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے جن میں 9 سویلین اور 6 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل تھے۔یاد رہے اپریل کے مہینے میں مئی کی نسبت 18 ہلاکتیں 6 افراد زخمی ہوئے تھے۔اس طرح ، گذشتہ ماہ ریاست مخالف کارروائیوں میں 100 فیصد اضافے کی وجہ سے ہونیوالی اموات میں 89 فیصد جبکہ زخمیوں کی تعداد میں 150 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ پکس کے مطابق خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں ریاست مخالف جنگجو حملوں میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ جہاں کل 18 میں سے 12 حملے ہوئے۔ یوں 67 فیصد حملوں کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقوں سے ہے۔فاٹا کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ان 12 حملوں میں ، 14 سویلین اور 3 سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 17 افراد مارے گئے اور آٹھ افراد سمیت پانچ سویلیں اور تین سکیورٹی فورسز کے اہلکار زخمی ہوئے۔شمالی وزیرستان کا قبائلی ضلع ایک بار پھر انتہائی پریشان کن صورتحال اختیار کر رہا ہے۔ جہاں آٹھ حملے ہوئے ہیں جو خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں کل حملوں کا 67 فیصد اور پورے ملک میں کل حملوں کا 44 فیصد ہے۔ صوبہ بلوچستان میں ریاست مخالف تشدد کی کاروائیاں کے 3 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 11 سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 4 سویلین مارے گئے۔جبکہ 2 افراد زخمی ہوئے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، کے پی کے اور پنجاب میں ریاست مخالف تشدد کا ایک ایک واقعہ پیش آیا۔پکس کے اعدادوشمار کے مطابق ریاست مخالف تشدد کی

کاروائیوں کے اٹھارہ میں سے آٹھ (IED) دیسی ساختہ بم حملے تھے، سات ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ، ایک فزیکل اسالٹ، ایک مارٹر اٹیک ، اور ایک راکٹ حملہ تھا۔ ملک میں ٹارگٹ کلنگ کے سات واقعات میں سے چھ سابقہ فاٹا سے رپورٹ ہوئے جو فاٹا میں ہونے والے حملوں کی کل تعدادکے 50 فیصد ہیں۔دریں اثنا سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں 10 مختلف سیکیورٹی کاروائیاں کیں جن میں نو مشتبہ جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ تین دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورس کا ایک اہلکار مارا گیا۔ فاٹا اور سندھ میں سیکیورٹی فورسزز نے تین، تین، کے پی میں 2 جبکہ بلوچستان اور پنجاب میں ایک ، ایک سیکیورٹی آپریشن کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…