پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

یکم جون سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہونے کا امکان ختم‎

datetime 30  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یکم جون سے عوام کو پیٹرولیم کی مد میں ملنے والا ریلیف کھٹائی کا شکار ہو گیا ۔ نجی ٹی وی رپورٹ کےمطابق آئل ریفائنریوں اور کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات اسٹاک کرنے کیلئے ڈپووں میں مزید گنجائش نہ ہونے کاشور شروع ہو گیا ہے اور وزیراعظم کو یکم جون سے عوام کو ملنے والے ریلیف کو دینے کیلئے قائل کر لیا گیا ۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم منصوعات کی

قیمتوں میں کمی نہ کروانے کیلئے کمپنیوں نے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ جس کے بعد یکم جون سے پیٹرولیم منصوعات کی مد میں ملنے والے ریلیف کھٹائی کا شکار ہو گیا ہے ۔ قبل ازیں اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں میں سمری ارسال کردی جس میں پٹرول کی قیمت میں سات روپے چھ پیسے کمی کی سفارش کی گئی ۔ اوگرا کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 5 پیسے اضافے کی سفارش کی گئی ،ڈیزل کی نئی قیمت 80 روپے 10 پیسے ہونے کا امکان ہے ۔ سمری میں پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے 6 پسے کمی کی سفارش کی گئی ،پیٹرولی کی نئیقیمت 74 روپے 52 پیسہ ہونے کا امکان ہے ،مٹی کے تیل کی قیمت میں 11 روپے 88 پیسے کمی کا امکان ہے ،مٹی کے تیل کی نئی قیمت 35 روپے 56 پیسے ہونے کا امکان ہے ،لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 37 پیسے کمی کا امکان ہے ،لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 38 روپے 14 پیسے ہونے کا امکان ہے ۔قبل ازیں مہنگائی کے چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے خوشخبری،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی ہونے کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 10 سے 12 روپے فی لیٹر سستی ہوسکتی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں پانچ سے دس روپے کمی متوقع ہے ، ڈیزل کی قیمت میں 5روپے تک کمی کا امکان ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیلئے اوئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) کی جانب سے تجاویز کے ساتھ سمری تیار کر لی گئی ہے جو وزارت خزانہ ارسال کی جائے گی تاہم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم خود کریں گے ۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پاکستان بہت زیادہ تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…