منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

شوگر مریض کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعدکتنے دنوں میں ہلاک ہو گئے ، طبی ماہرین کا تحقیق میں افسوسناک انکشاف

datetime 29  مئی‬‮  2020 |

لاس اینجلس (این این آئی)ذیابطیس میں مبتلا کورونا کے 10 فیصد مریض ایک ہفتے میں ہی ہلاک ہوئے۔جرنل آف ذیابطولاجیا میں شائع ایک تحقیق کے مطابق ذیابطیس میں مبتلا افراد جو کورونا کا شکار ہوئے ان میں سے 10 فیصد مریض ہسپتال داخل ہونے کے ایک ہفتے کے اندر ہی چل بسے۔رپورٹ کے مطابق تحقیق میں 1300 کورونا کے ایسے مریضوں کا جائزہ لیا گیا جو ذیابطیس کا بھی شکار تھے۔

ذیابطیس میں مبتلا کورونا کے ان مریضوں کا ریکارڈ دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ ذیابطیس کے ہر 10 میں سے ایک مریض ہسپتال میں داخل ہونے کے ایک ہفتے میں ہی ہلاک ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے ذیابطیس کے مریضوں میں سے 2 تہائی مریض مرد تھے ، مرنے والے مرد و خواتین مریضوں کی اوسط عمر 70 تک تھی۔تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ کورونا میں مبتلا ایسے مریضوں کی بڑھتی عمر اور ذیابطیس کی پیچیدگیوں کے باعث ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوا۔رپورٹ کے مطابق باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) یعنی جسامت اور اضافی وزن کے حامل افراد کو ویسے ہی پیچیدہ حالات میں وینٹی لیٹرز کی ضرورت پڑتی ہے، تاہم ایسے افراد کے مرنے کے چانسز بھی زیادہ ہوتے ہیں۔اسی طرح تحقیق میں بتایا گیا کہ فرانس کے 53 ہسپتالوں میں 10 سے 31 مارچ تک آنے والے نصف کورونا کے مریضوں میں گردوں اور آنکھوں کے مسائل سمیت ان میں اعصابی مسائل بھی پائے گئے۔اسی طرح کورونا کے 40 فیصد مریضوں میں دل، دماغ اور ٹانگوں کے درد اور دیگر شکایات کے مسائل بھی پائے گئے جس وجہ سے ایسے مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہونے کے ایک ہفتے کے دوران ہی مرنے کے امکانات بھی بڑھ گئے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ کورونا کے 75 سال کے عمر تک کے ایسے مریض جو کہ دیگر بیماریوں کے بھی شکار تھے ان کی موت کے امکانات 55 سال کی عمر والے مریضوں کے مقابلے 14 فیصد زیادہ تھے۔تحقیق کے مطابق کورونا سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہر پانچویں مریض کو ہسپتال میں آنے کے ایک ہفتے بعد وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑی جب کہ ہر دسواں مریض مر گیا جب کہ ہسپتال میں داخل ہونے والے چوتھائی مریضوں کو ڈسچارج کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…