جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب میں کرونا مریضوں کے علاج کیلئے دوا منظور ایک انجکشن کی قیمت کیا ہوگی؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 28  مئی‬‮  2020 |

لاہور(اے این این) حکومت پنجاب نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں کووِڈ 19 کے باعث اموات میں اچانک اضافے کو دیکھتے ہوئے اس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے ایکٹیمرا (Actemra) نامی زندگی بچانے والی دوا کے استعمال کی منظوری دے دی۔400

ملی گرام کی انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی یہ دوا ان مریضوں کو تجویز کی جائے گی جنہیں پھیپھڑوں کی پیچیدگیاں لاحق ہوں اور خون میں آئی ایل-6 کی سطح غیر معمولی ہو، خیال رہے کہ آئی ایل-6 ایک ایسا کیمیکل ہے جو سوزش کا سبب بنتا ہے۔اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ دوا کی ایک خوراک(انجیکشن) کی قیمت 60 ہزار روپے ہے جو انتہائی نگہداشت یونٹ(آئی سی یو) میں زندگی کی تشوشیناک حالت میں داخل مریضوں کو 2 مرتبہ دی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ فیصلہ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ساتھ ہی محکمہ صحت نے لاہور میں سرکاری تربیتی ہسپتالوں کو اس دوا کی 20 خوراکیں خریدنے کی اجازت بھی دے دی۔اجلاس میں میڈیکل یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز، میڈیکل کالجز کے پرنسپل، حکومت کے کورونا ایڈوائزری گروپ (سی ای اے جی)کے اراکین، ماہر امراض سانس اور میڈیسن کے پروفیسرز بھی موجود تھے۔

لاہور کے میو ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر اسد اسلم خان نے اس دوا کے آئی سی یو میں زیر علاج تشویشناک مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کے حوالے سے ایک تحقیق پیش کی۔انہوں نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے ان مریضوں کو یہ دوا تجویز کی جن کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا یا انہیں شدید نمونیا تھا جس کے نتیجے میں صحتیابی کی شرح 80 سے 90 فیصد رہی۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جن مریضوں پر یہ دوا استعمال کی گئی ان میں شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر برائے میڈیسن اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پرسنل اسٹاف آفیسر شامل تھے۔دونوں مریض میو ہسپتال میں زیر علاج تھے اور دوا کا اثر اتنا ہوا کہ نہ صرف وہ صحتیاب ہوئے بلکہ آئی سی یو سے بھی نکل گئے۔

دوسری جانب میڈیکل اداروں کے سربراہان نے بھی ایکٹیمرا کے استعمال کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہسپتالوں میں اسے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔اجلاس میں ماہرین صحت کو بتایاگیا کہ نمونیا کا شکار کووِڈ مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جس سے پنجاب میں اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔

اجلاس کے دوران صوبے میں آئی سی یو کی سہولت کی توسیع کا ایک اور اہم فیصلہ بھی کیا گیا۔صوبے میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں متوقع اضافے کے پیشِ نظر ٹیچنگ ہسپتالوں کے سربراہان کو آئی سی یو اور ہائی ڈپینڈینسی یونٹس میں بستروں کی گنجائش میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔اس کے علاوہ انہیں وینٹی لیٹرز کی تعداد میں 31 مئی تک 200 اور آئندہ ماہ کے اختتام تک 400 کا اضافہ کرنے کا بھی کہا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…