اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

خوفزدہ بھارت کا گھنائونا چہرہ سامنے آنے لگا، بھارتی فوج نے شہید کمانڈر ریاض نائیکو کی میت قبر سے نکال کر کیا کرنے کا فیصلہ کر لیا؟

datetime 27  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)جموں وکشمیر ماس موومنٹ کے وائس چیئرمین عبدالمجید میر نے کہا ہے کہ بھارتی فوجی کشمیری شہید نوجوانوں کے جنازوںکے بڑے بڑے اجتماعات سے خوفزدہ ہو کر اب انکی میتیںلواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے سونہ مرگ اور اوڑی میں اپنے زیر انتظام قبرستانوں میں دفن کررہی ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق عبدالمجید میر نے اسلام آباد میںجاری ایک بیان میں کہا کہ شہید نوجوانوں کی میتیں ضلع گاندر بل کے علاقے سونہ مرگ اور ضلع بارھمولہ کے علاقے اوڑی میں بھارتی فوج کے زیر انتظام قبرستانوں میں خاموشی سے دفن کردی جاتی ہیںجسکا واحد مقصد شہداء کے جنازوں میں کشمیریوں کی والہانہ شرکت کو روکنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج یہ مذموم عمل کورونا وائرس کی آڑ میں انجام دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہیدکمانڈر ریاض نائیکو کی میت بھی سونہ مرگ کے علاقے میں دفن کی گئی تھی جہاں ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کیلئے لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے لہذا اطلاعات یہ ہیں کہ بزدل بھارتی فوج نے ان کی میت کو قبر سے نکال کر کسی نامعلوم مقام پر دفنانے کا فیصلہ کیا ہے۔عبدالمجید میر نے شہید کمانڈر کی میت کو قبر سے نکال کو کسی نامعلوم جگہ پر دفنانے کے بھارتی فوج کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ قابض فوج اپنی گھنائونی حرکتوں کے ذریعے کشمیری عوام کے دلوں سے اپنے شہداء کی محبت ہرگز نہیں نکال سکتی ۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر ی اپنے شہداء کے عظیم مشن کو مقصد کے حصول تک ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…