منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس کی ویکسین، ادویات کیلئے بھاری رقم  جمع 

datetime 27  مئی‬‮  2020 |

برسلز(این این آئی)ایک مہلک عالمی وبا بن چکی‘ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین اور ادویات کی تیاری کے لیے شروع کردہ عالمی مہم کے تحت اب تک دس ارب ڈالر جمع ہو گئے ہیں۔ ایک بار بنا لی گئیں تو ایسی ویکسین اور ادویات دنیا بھر کو مہیا کی جائیں گی۔بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق کووِڈ انیس نامی بیماری کی وجہ بننے والے

نئے کورونا وائرس کی عالمی وبا کی روک تھام اور اس وائرس کے خلاف ممکنہ ویکسین اور ادویات کی تیاری پر اس وقت دنیا بھر کے بہت سے ممالک میں ماہرین زور شور سے اپنی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں کورونا وائرس کے خلاف عالمی اتحاد کے طور پر ایک مہم رواں ماہ کی چار تاریخ کو شروع کی گئی تھی۔ اس مہم کے تحت امداد دہندہ ممالک، بین الاقوامی تنظیموں، غیر حکومتی اداروں اور انتہائی امیر شخصیات کی ایک آن لائن ڈونر کانفرنس بھی اسی روز منعقد کی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں شرکاء  نے، جن میں مختلف ممالک کی حکومتیں اور بہت بااثر نجی شخصیات بھی شامل تھیں، نئے کورونا وائرس کی ویکسین اور اس وائرس کے خلاف ممکنہ ادویات کی تیاری کے لیے 7.4 ارب یورو یا تقریبا آٹھ ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔امریکا نے، جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور اب تک کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، اس مہم کی خاموش مخالفت کرتے ہوئے اس میں حصہ نہیں لیا تھا۔یورپی کمیشن کی جرمنی سے تعلق رکھنے والی خاتون صدر اْرزْولا فان ڈئر لاین نے اس بارے میں اپنی ایک ٹویٹ میں تصدیق کی کہ ڈونر کانفرنس میں صرف ایک دن میں جمع ہونے والے  7.4 بلین یورو کے بعد اس عالمی مہم میں عطیات کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک اس مقصد کے لیے 9.5 بلین یورو یا 10.4 بلین امریکی ڈالر کے برابر مالی وسائل جمع ہو چکے ہیں۔یورپی کمیشن کی صدر نے ٹوئٹر پر لکھا،یہ ایک شاندار نتیجہ ہے اور ایک اہم سنگ میل، جو عبور کر لیا گیا ہے، گلوبل ریسپانس نامی اس عالمی مہم کے تحت، جس میں یورپی یونین نے قائدانہ کردار ادا کیا۔کووڈ انیس کے خلاف گوبل ریسپانس نامی اس عالمگیر مہم کے تحت کئی ممالک میں طبی تحقیقی ماہرین باہمی طور پر مربوط کوششیں کرتے ہوئے اس وائرس کے خلاف کوئی نہ کوئی مؤثر ویکسین اور ممکنہ ادویات کی تیاری کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مہم کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جب ایسی کوئی ویکسین اور ادویات تیار کر لی گئیں، تو وہ غریب ممالک سمیت دنیا کے تمام ممالک کو مہیا کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…