جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

سی ڈی اے میں95فیصد افسران کی ڈگریاں جعلی ہیں،انتہائی دھماکہ خیز انکشافات

datetime 17  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) سی ڈ ی اے آفیسرز ایسوسی ایشن مجاہد گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ 95 فیصد افسران جعلی ڈگری ، جعلی بھرتی واپ گریڈیشن اور دیگر غیر قانونی طریقوں سے ایڈمن افسر سے ڈائریکٹر گریڈ 19 تک جا پہنچے،۔گریڈ 18 کے افسران میں سینئر ترین ایگزیکٹو کاڈر کے عبدالرزاق نیب زدہ ہیں اور پی ٹی سی ایل کے ایک ریٹایرڈ افسر کو سی ڈی اے میں بھرتی کروانے ، پلاٹ دلوانے اور ابثورب کروانے کی بابت نیب کو خطیر رقم دے کر ضمانت پر تعینات ہیں۔

سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن مجاہد گروپ کا کہنا ہے کہ سید صفدر علی عرف صفدر شاہ سیکرٹری سی ڈی اے بورڈ ڈوگ شوٹر سے سینیٹری سپروائزر سے گریڈ 19 تک جا پہنچا اور ہیومن ریسورسز کے جملہ گھپلوں جن میں غیر قانونی بھرتیاں ، اپ گریڈیشن، ترقیاں انہی کا برین چائلڈ اور طرّہ امتیاز ہے۔ موصوف نے تھرڈ ڈویڑن ماسٹر ڈگری کے حصول کے بعد گریڈ 18 سے 19 میں پروموشن میں اپنی ڈگری کو فرسٹ ڈویڑن قرار دلوایا اور پروموشن کمیٹی کو ماموں بنایا جب کہ انکی ایک گریڈ سے دوسری میں لمبی لمبی چھلانگے انکی قابلیت کا مظھر ہیں۔ ڈگریوں کی جانچ پڑتال بھی انہی کے زیر سایہ پروان چڑھ رہا ہے جہاں پیسے دے کر دو نمبر کو ایک نمبر کیا جاتا ہے ۔خضر حیات ستی پٹواری سے ڈائریکٹر کیسے بنا۔ کون اسکو لایا کیسے پوسٹ نکالی گئی اور کیسے پرچہ مومن آغا نے حال کروایا اور پرچہ بدلہ، کیسے بغیر تھرو پروپر چینل کے ستی صاحب کو زم کیا گیا اور کیسے پچھلی سروس بعد میں ڈال کر موصوف ون ونڈو کے ڈائریکٹر لگے جو ایک المیہ ہے ، انکی ڈگریاں بھی شامل تفتیش ہیں۔ اظہر ملک ، اسد عبّاس ، ملک عطا ، وحید بھٹی ، غلام شبّیر ، عبدالرؤف ، کاشف شاہ، کامران بخت کی گریڈ 16 میں وفاقی محتسب کی جانب سے بھرتی غیر قانونی قرار دے دی گئی جو تمام آج ڈائریکٹر بنے بیٹھے ہیں مگر غضب خدا کا جمے بیٹھے ہیں۔ظفر اقبال نے اپلائی کمانڈر اربن ریسکیو کے لئے کیا مگر بھرتی فائر چیف کر لیا گیا اور پھر ریڈیزیگنیٹ ہو کر ایڈیشنل ڈائریکٹر اور اب ڈائریکٹر ڈی ایم اے ڈائریکٹربنا بیٹھا ہے ،

پبلک ریلیشنز کا وقار حسن فوٹوگرافر کیسے پہنچا گریڈ 18 میں ؟ ضیاء شاہ ، سائمن کیسے اسسٹنٹ مینیجر سے ریڈیزیگنیٹ ہوئے اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنے اور پکّے اور شامل ہوے ایگزیکٹو کاڈر کے دھارے میں۔سید علی بخاری بغیر اشتہار کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس افسر بھرتی کیا گیا ، تین ماہ میں ریگولر کیا گیا ، پھر کاڈر تبدیل کروایا گیا اور ایڈمن افسر بنایا گیا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ترقی دلوا کر آج کل ڈپٹی ڈائریکٹر HR لگایا گیا ہے ، جب کہ گھر گریڈ 20 کے افسر کا سیکٹر آء 8 میں الاٹ کروایا گیا اور 108 افسران کو اسٹیٹ میں رہتے ہوے پلاٹ بھی اسی نے اپنے سائن سے جاری کئے۔انکوائری نا کوئی سوال نا جواب بلکے ترقیاں گاڑیاں پوسٹنگز اور اتھارٹی انکے گھر کی لونڈی ہے ایئر قانون جو یہ کہے وہ بن جاتا ہے باقی سب خام مال ہے۔ چیئرمین عامر علی ان بغل بچوں کے بارے کوئی انکوائری کیوں نہیں ہوتی ؟ کیوں فیاض وٹو جیسے پراپرٹی ٹائیِکون اور غیر قانونی بھرتی کنندہ کا احتساب نہیں ہوتا اور انکی رسی دراز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…