بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں داعش کا وجود نہیں لیکن خطرہ موجود ہے، سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری

datetime 25  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(اپنے رپورٹر سے) سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں تاہم پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں جنگجو تنظیم کا خطرہ موجود ہے۔قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ داعش کو پاکستان میں آنے سے روکنے کے لئے حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے، ملک میں اس وقت داعش کا کوئی وجود نہیں تاہم پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی خطے میں داعش کا خطرہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی کی رپورٹس ہیں اور افغان حکومت سے کہا ہے کہ داعش کو اپنی سرزمین پر آگے بڑھنے سے روکا جائے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشت گردی میں کافی کمی آئی ہے۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں، امریکا کو میزائل پروگرام کی نوعیت پر خدشات تھے تاہم ان کے خدشات کو دور کردیا گیا ہے۔بی بی سی کی ایم کیو ایم سے متعلق رپورٹ کے حوالے سے سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو بھارتی فنڈنگ سے متعلق رپورٹ کے حوالے سے مکمل معلومات نہیں ہیں، ابھی تک کوئی ایسی رپورٹ موصول نہیں ہوئی جس پر کارروائی کی جائے تاہم اس حوالے سے جیسے ہی کوئی رپورٹ ملے گی تو پاکستان اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دورہ بنگلا دیش کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا بیان اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے جس پر عالمی برادری کو ایکشن لینا چاہیئے۔اجلاس کے دوران مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغانستان میں نئی حکومت آنے کے بعد حالات بہتر ہورہے ہیں، افغان حکومت امن کے لئے طالبان سے مذاکرت کا راستہ اختیار کررہی ہے لیکن کچھ طالبان گروپس مذاکرات کے لئے تیار ہیں اور کچھ نہیں، ان مذاکرات میں پاکستان کا کردار صرف سہولت کار کا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان عوام گزشتہ 30 سے زائد سالوں سے حالت جنگ میں ہے اور انھیں امن اور ترقی کی بہت ضرورت ہے، موجودہ افغان حکومت کو اپنے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے کوئی بھی اقدام اٹھانے کا مینڈیٹ حاصل ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…