ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

یہ وقت ایسا نہیں ہے کہ منافع بنانے والی کمپنیوں اور حکومتوں کے مفاد کو لوگوں کی جانوں کو بچانے پر فوقیت دی جائے،وزیراعظم عمران خان سمیت 140 لیڈرز کے مفت ویکسین کیلئے پیٹیشن پر دستخط‎کر دیئے

datetime 15  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس کی ویکسین تیار ہونے کے بعد دنیا بھر کے ممالک کو مفت میں دستیاب ہونی چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان سمیت دنیا کے 140 عالمی رہنماؤں نے یہ مطالبہ ایک خط کی صورت میں کیا ہے۔ عالمی خبر رساںادارے کے مطابق لکھے گئے خط پروزیراعظم عمران خان، ساؤتھ افریقہ کے صدر سیرل راما فوسہ، سینیگال و گھانا کے

صدوراور سابق وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز سمیت 140 عالمی رہنماؤں کے دستخط موجود ہیں۔ عالمی رہنماؤں کی جانب سے لکھے جانے والے خط کے مندرجات اس وقت منظر عام پر آئے ہیں کہ جب فرانس میں ادویات تیار کرنے والی کمپنی سنوفی نے اعلان کیا ہے وہ کہ کورونا وائرس کی کسی بھی ویکسین کی پہلی کھیپ محفوظ رکھے گی۔اس خط پر سابق صدور اور وزرائے اعظم دستخط کرچکے ہیں پاکستان کی جانب سے اس خط پر وزیراعظم عمران خان اورسابق وزیراعظم شوکت عزیز نے دستخط کیے۔افریقن یونین کے چیئرپرسن ریم فوزا کا کہنا ہے کہ افریقی ممالک کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے تیار کردہ ویکسین کو جلد تیار ، ڈسٹری بیوٹ اور مفت دستیاب ہونا چاہیے، ” کسی بھی شخص کو اس کی شہریت اور آمدن کی وجہ سے کورونا وائرس کی ویکسین ملنے کی لائن میں پیچھے نہیں دھکیلا جاسکتا” ۔عالمی رہنماؤں کی جانب سے تحریر کردہ خط میں یہ ضمانت طلب کی گئی ہے کہ مؤثر ویکسین تیار ہونے کی صورت میں وہ تمام ممالک کے عوام کے لیے دستیاب ہوگی۔ خط میں ضمانت تمام ممالک سمیت اقوام متحدہ سے طلب کی گئی ہے۔پاکستان کی جانب سے اس خط پر وزیراعظم عمران خان اورسابق وزیراعظم شوکت عزیز نے دستخط کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…