نیویارک (نیوزڈیسک)امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ نشہ آور اشیااور خصوصا کوکین انسان کے مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس نشہ کے عادی افراد میں ایڈز کا شکار ہونے کا خدشہ کہیں زیادہ ہو جاتا ہے۔لہذا اگر آپ ایڈز سے بچنا چاہتے ہیں تو ہر قسم کی نشہ آور اشیاءسے پرہیز کریں
تحقیق کاروںکا کہنا ہے کہ محض تین دن کے لئے کوکین استعمال کرنے والوں کے جسم میں مدافعتی خلیوں کا طرز عمل تبدیل ہو جاتا ہے۔ جسم کے مدافعتی نظام کے CD4 T-cells عموما ایڈز جیسے امراض کے خلاف مدافعت کا کام کرتے ہیں لیکن کوکین کا نشہ کرنے والوں میں دیگر مسائل کے علاوہ یہ خلیات بری طرح متاثر ہو جاتے ہیں، ان میں انفیکشن پیدا ہو جاتا ہے، اور یوں ایڈز کے خلاف مدافعت انتہائی کمزور ہونے کے بعد اس بیماری کا خدشہ کہیں زیادہ ہو جاتا ہے۔
اس سے پہلے ایک تحقیق میں سائنسدان ڈاکٹر وٹاکیس یہ دعوی کر چکے ہیں کہ کوکین کے استعمال سے جسم میں CD4 T-cells کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یوں ان میں انفیکشن کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ اہم تحقیق آن لائن سائنسی جریدے سائنٹیفک رپورٹس میں شائع کی گئی ہے۔
کن لوگوں میں ایڈز ہونے کا امکان زیادہ ہوتاہے؟ سائنسدانوں نے اہم سوال کا جواب دیدیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
دفاتر میں جمعہ کی چھٹی ! سرکاری ملازمین کے لیے اہم اعلان
-
بیرون ملک سے موبائل فون لانے والے پاکستانیوں کےلیے اہم خبر
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)
-
بھارت کی خوبرو اداکارہ کی نازیبا ویڈیو وائرل
-
ایزی پیسہ صارفین کیلئے بڑی خوشخبری، آج سے نئی آفر شروع
-
لارڈز ٹیسٹ میں عبرتناک شکست کے بعد پاکستانی ٹیم میں آپریشن کلین اپ، 6 کھلاڑی انگلینڈ طلب
-
پنشنرز کے لیے بڑی خوشخبری، مفت میں سہولت فراہم
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
مہنگے موبائلز سے تنگ عوام کے لیے اچھی خبر، سینیٹ کمیٹی کا ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ
-
یوٹیوب کے بعد ‘بلی بلی’ کمائی کا نیا ذریعہ، عالمی کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے مواقع
-
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا
-
سبھاش گھئی اور سلمان خان کے درمیان ہاتھا پائی؛ فلم ساز نے وجہ بتادی
-
ماہرین نے گنج پن کا آسان اور مؤثر علاج دریافت کرلیا
-
آسٹریلیا میں منفرد واقعہ، خاتون کے ہاں مختلف والدین کے جڑواں بچوں کی پیدائش



















































