ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

’’ ٹوکری کو خالی نہ ہونے دیں‘پیسے میں دوں گا ‘‘ نیکی کی ٹوکری ترکی سے اسلام آباد پہنچ گئی ، یہ ٹوکری ضرورت مند افراد کے کیسے کام آتی ہے ؟ ترکی رویت کی پیروی کرتے ہوئے مستحق افراد کیلئے ایک اور زبردست قدم اٹھا لیا گیا

datetime 11  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)باعزت طریقے سے ضرورت مندوں کی مدد کی قدیم ترک روایت کی پیروی کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں تندوروں پر نیکی کی ٹوکری رکھنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جہاں صاحب استطاعت لوگ روٹیاں رکھتے ہیں اور ضرورت مند لوگ بغیر کسی سے مانگے اپنی ضرورت کے مطابق مفت روٹیاں حاصل کرتے ہیں۔روزنامہ جنگ کے مطابق اسلام آباد کے

مضافاتی علاقہ بنی گالہ میں ڈاکٹر رانا محمد اخلاق کشفی نے متعدد تندوروں پر ٹوکریاں رکھی ہیں جو مقامی غربا کے لیے غیبی امداد کا نمونہ بنتی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر اخلاق نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ نیکی کی ٹوکری ایسی اسکیم ہے جسے چلانے کے لیے نہ بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے اور نہ ہی بہت زیادہ انتظامات کی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قریبی تندور پر ایک صاف ستھری ٹوکری رکھیں، تندور والے کو اعتماد میں لیں، ایک چھوٹا سا اشتہار لگائیں اور پھر جادو دیکھیں۔بنی گالہ میں ایسے ہی ایک تندور کے مالک سردار عظیم نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ لوگ اپنی خوشی سے ٹوکری میں دو چار روٹیاں ڈالتے ہیں، کئی بار ایسا ہوا ہے کہ روٹیاں زیادہ ہوجاتی ہیں اور ضرورت مند کم پڑ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہم روٹیاں فروخت کر کے پیسے رکھ لیتے ہیں اور ان پیسوں کو بعد میں استعمال کرتے ہیں تاکہ غریبوں کو تازہ روٹی مل سکے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے تندور میں نیکی کی ٹوکری سے پندرہ سو روپے سے زیادہ رقم جمع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب لوگ روٹی کے ساتھ سالن بھی لانے لگے ہیں۔ڈاکٹر اخلاق نے کہا کہ شروع میں انہوں نے تندور والوں سے کہا کہ ٹوکری کو خالی نہ ہونے دیں، اگر کوئی روٹی نہ ڈالے تو آپ میری طرف سے اس میں روٹیاں ڈال دیں میں پیسے دوں گا لیکن آج تک ایک مرتبہ بھی ٹوکری خالی نہیں ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…