منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

کرونا سے متعلق معلومات چھپانے کا الزام ،عالمی ادارہ صحت  نے جرمن جریدے کی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا

datetime 11  مئی‬‮  2020 |

جنیوا (این این آئی )عالمی ادارہ صحت( ڈبلیو ایچ او) نے معروف جرمن جریدے کی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندا قرار دے کر مسترد کردیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ادارے نے چین کے دباؤ پر نئے کرونا وائرس سے متعلق معلومات کو چْھپایا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے تحت ایجنسی نے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ تیدروس ادانوم غیبریوسس اور چینی صدر شی جین پنگ کے

درمیان 21 جنوری کو فون پر گفتگو سے متعلق جرمن جریدے کی رپورٹ کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ رپورٹ بے بنیاد اور نادرست ہے۔چینی صدر شی نے تیدروس سے فون پر گفتگو میں یہ کہا تھا کہ کرونا وائرس کی ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقلی سے متعلق معلومات جاری نہ کریں اور نہ اس کو عالمی وبا قرار دیں۔جریدے نے جرمنی کی غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسی بی این ڈی کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا لیکن اس ایجنسی نے خود اس حوالے سے کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کیا ۔جرمن جریدے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی این ڈی نے اس وَبا سے نمٹنے کے لیے چھے ہفتے کے دورانیے کا اندازہ لگایا تھا لیکن چین کی اطلاعاتی پالیسی کی وجہ سے یہ وقت ضائع ہوگیا تھا۔ڈبلیو ایچ او نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تیدروس اور چینی صدر کے درمیان کبھی فون پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔اس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نادرست رپورٹس کا مقصد ڈبلیو ایچ او اور دنیا کی توجہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں سے ہٹانا ہے۔اس نے کہا کہ چین نے تو 20 جنوری ہی کو اس امر کی تصدیق کردی تھی کہ یہ نیا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوجاتا ہے۔اس کے دو روز کے بعد ڈبلیو ایچ او کے حکام نے ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں یہ کہا تھا کہ چین کے شہر ووہان میں وائرس کے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقلی کے شواہد ملے ہیں لیکن ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔عالمی ادارہ صحت نے 11 فروری کو کووِڈ-19 کو وبا قرار دیا تھا۔کرونا وائرس کے تعلق سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈبلیو ایچ او کے سب سے بڑے ناقد رہے ہیں، انھوں نے اس پر چین کے دباؤ کے آگے جھکنے کا الزام عاید کیا تھا اور اس کو دی جانے والی امدادی رقوم بھی روک لی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…