منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’ وائرس قدرتی ہے،اللہ پاک نے انسانیت بچانے کے لیے بھیجا ہے‘‘ لاک ڈائون کا سلسلہ جاری رہا تو ایک ماہ میں موسمیاتی چیلنجز میں کونسی بڑی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے ؟ طبی ماہرین نے حیرت انگیز انکشاف کر دیا

datetime 10  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)کرونا وائرس سے موسمیاتی تبدیلی سے دنیا کی بتاہی ٹل گئی۔خدا نے مخلوق بچا لی،معلومات کے مطابق کہ کرونا وائرس کئی دہائیوں سے دنیا میں موجود ہے اور یہ کئی شکل میں پایا جاتا ہے لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اسکی ویکسین بھی ایجاد ہے اور پاکستانی جب حج عمرہ کے لیے جاتا ہے تو مذکورہ ویکسین لگا کر جاتا ہے ۔یہاں ڈاکٹر فرحت عباس کا کہنا ہے کہ دنیا میں

کرونا کی 29اقسام ہیں اور یہ مختلف شکلوں میں انسانی جسم میں سرائیت کرتا رہتا ہے اور اس وائرس سے دنیا پہلے سے ہی واقف تھی اور اس سے بچائو کے لیے چار اقسام کی ویکسین بھی تیار کیے ہوئے تھے۔دوسری جانب کہ دنیا اگلے دس سال میں ماحولیاتی الودگی کے باعث ختم ہو جانی تھی اور اس پر پوری دنیا مختلف تجربات کر رہی تھی اور بہت پریشان تھی لیکن کرونا وائرس نے ماحولیاتی آلودگی کو دھو دیا ہے ڈاکٹر فرحت کے مطابق یہ وائرس قدرتی ہے اور یہ اللہ پاک نے انسانیت بچانے کے لیے بھیجا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی جس کا دنیا کو سامنا تھا اس سے چھٹکارا پانے کے لیے وائرس آیا ،یہاں ایک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ لاکھوں جہاز جو کہ روزانہ کی بنیاد پر پرواز کرتے تھے اور انکے دھویئں کے باعث بادل بھی برس نہیں سکتے تھے اور انسان کا سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا،اب جبکہ لاک ڈائون سے ایک بار پھر ماحول پاک ہو گیا ہے اور آلودگی ختم ہونے کو ہے ،عام فضا میں سانس لینا قدرے بہتر ہو چکا ہے اور یوں یہ لاک ڈائون کا سلسلہ جاری رہا تو ایک ماہ میں موسمیاتی تبدیلی والا چیلنج ختم ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…