اتوار‬‮ ، 01 فروری‬‮ 2026 

میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھاناکپتان یا کوچ کی نہیں بلکہ کس کی ذمہ داری ہوتی ہے ؟ تہلکہ خیز انکشاف  

datetime 9  مئی‬‮  2020 |

لاہور (این این آئی)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر معین خان نے کہا ہے کہ میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا وکٹ کیپر کی ذمہ داری ہے، اپنی محنت میں تسلسل نہ لاتا تو راشد لطیف جیسے باصلاحیت وکٹ کیپر کا مقابلہ کبھی نہ کرسکتا۔پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کی جانب سے  وکٹ کیپرز کے لیے منعقدہ آن لائن ویڈیو سیشنز میں سابق کپتان معین خان نے  سرفراز احمد، محمد رضوان

اور انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر روحیل نذیر کو مشورے دئیے۔وکٹ کیپرز سے اپنے  خطاب میں معین خان نے وکٹ کیپرکے کردار پر اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا اس کے وکٹ کیپر کی ذمہ داری ہے۔  انہوں نے کہا کہ میچ کے دوران اگر بولرز کی پٹائی لگ رہی ہو تو بطور وکٹ کیپر آپ کو دیگر فیلڈرز کے ساتھ مذاق یا تفریح کرنی چاہیے تا کہ کھلاڑی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔معین خان نے موجودہ وکٹ کیپرز کو اپنے بولرز سے ربط بڑھانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ وکٹ کے پیچھے کھڑے ہوکر وسیم اکرم اور شاہد آفریدی کے آنکھوں کے اشارے پڑھ لیا کرتے تھے، معین خان نے کہا کہ دونوں بولرز کے ساتھ مل کرانہوں نے کئی معروف بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔معین خان نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں راشد لطیف جیسے باصلاحیت وکٹ کیپر سے مقابلہ کرنا بہت مشکل تھا مگر انہوں نے الزام تراشی یا حیلے بہانے ڈھونڈنے کے بجائے خوداحتسابی پر اعتماد کیا اور یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ایک روزہ میچز کھیلنے والے وکٹ کیپر ہیں۔سابق کرکٹر نے کہا کہ وہ سخت محنت اور ذہنی مضبوطی کے لیے فٹبال اور اسکواش کھیلنے کے علاوہ جاگنگ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سلیم یوسف اور این ہیلی سے بہت متاثر تھے اور انہی کی طرح اچھا وکٹ کیپر بیٹسمین بننے کی کوشش کرتے تھے۔خیال رہے کہ معین خان کا 14 سالہ کیریئر 1990 سے 2004 تک محیط تھا جس میں انہوں نے 69 ٹیسٹ میچوں میں 2 ہزار 741 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ وکٹوں کے پیچھے 148 شکار کیے جب کہ انہوں نے 219 ایک روزہ میچوں میں 3 ہزار 266 رنز بنائے اور وکٹوں کے پیچھے 287 شکار کیے۔

موضوعات:



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…