ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

کرونا کی عالمی وبا کے باجود استغفار اور رجوع الی اللہ کا رویہ اختیار نہ کرنامشکلات میں  اضافے کا باعث بن رہاہے،ملک میں کس چیز کو پورا نہیں ہونے دیا جارہا ؟  نبی آخرالزماںحضرت محمد ؐ کے غلام ایسے نظام کو برداشت نہیں کرسکتے، حکومت کو دوٹوک پیغام دیدیا گیا 

datetime 8  مئی‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرونا کی عالمی وبا کے باجود استغفار اور رجوع الی اللہ کا رویہ اختیار نہ کرنامشکلات میں اضافے کا باعث بن رہاہے۔ آئین پاکستان سے متصادم نظام نے قیام پاکستان کے مقاصد کوپورا نہیں ہونے دیا ۔73سال سے اقتدار پر مسلط جاگیرداروں ،وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ٹولے نے قوم کی منزل کو کھوٹا کردیا ہے ۔ جس نظام سے بغاوت کرکے

پاکستان بنایا تھا وہی نظام ملک پر مسلط کردیا گیا۔ قرآن و شریعت کے نظام کیلئے دی گئی لاکھوں جانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے ۔پاکستان کو اس کی منزل اسلامی انقلاب سے ہمکنار کرنے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔عوام دکھوں ،پریشانیوں اور مسائل سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو تحریک پاکستان کے جذبہ سے نظام مصطفی ؐکے نفاذ کیلئے جدوجہدکریں اور ظلم وجبرکے نظام سے نجات کیلئے دیانتدار قیادت کا ساتھ دیں۔ظلم کے نظام کو سپورٹ کرناظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے ۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے ملاقاتوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ رمضان المبارک کا اصل پیغام یہ ہے کہ سچے دل سے رجوع الی اللہ کیا جائے، اللہ کی نافرمانی سے خود بھی بچاجائے اور دوسروں کو بھی بچایا جائے ۔اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نظام سے بغاوت ہی مسائل کی جڑہے ۔ پاکستان میں آج بھی اسلام اسی طرح مظلوم ہے جس طرح انگریز کے دور میں تھا ۔عدالتوں اور تھانے کچہری میں انگریز کا نظام رائج ہے ۔عدالتوں میں قرآن کے مطابق فیصلے نہیں ہوتے ،تعلیم میں لارڈ میکالے اور معیشت میں معاشی استحصال کا بدترین سودی نظام ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آئین کے مطابق ملک میں اسلامی نظام ہوتا تو عدالتوں میں قرآن کے مطابق فیصلے ہوتے اور کسی ظالم و جابر کو یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ قومی خزانے میں سے ایک پائی کی بھی ہیراپھیری کرتا،آج ملک میں کرپشن ہے ،لوٹ کھسوٹ اور چھینا جھپٹی میں ہر کوئی ایک دوسرے کو مات دینے کی کوشش کررہا ہے ۔قومی خزانے کے محافظ ہی بیت المال کو ہڑپ کرجاتے ہیں مگر کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملکی اقتدار پرمسلط رہنے والے اس قوم کے مجرم ہیں ۔بار بار اقتدار میں آنے والوںنے عوام کوبنیادی حقوق سے محروم رکھا ۔عام آدمی کوتعلیم ،صحت اور روز گار کی سہولتیں حاصل نہیں ،وسائل کی لوٹ مار اور غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے امیروں کی دولت اور غریب کی غربت میں اضافہ ہورہا ہے ۔غریب کی جھونپڑی میں غریب اور امیر کے محل میں امیر اگتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ظلم اور

استحصال کا یہ نظام اب زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا ۔نبی آخرالزماںحضرت محمد ؐ کے غلام ایسے نظام کو برداشت نہیں کرسکتے ۔ہمیں اس نظام کے خلاف اٹھنا اور قوم کو اس سے نجات دلانا ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ قوم اپنے خیرخواہوں کو پہنچانے ۔مشکل کی ہر گھڑی میں جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن اپنے غریب عوام کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ،خدمت کے جذبہ سے سرشار لوگ اقتدار میں آئیں گے تو ملک و قوم کے مسائل حل ہونگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…