اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختون خواہ کے سینئر رہنماؤں نے کہا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں کرونا وائرس کے حوالے سے ٹیسٹ کپیسٹی کم ہونے کی وجہ سے کرونا کے مریض بڑھ رہے ہیں اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے ،پشاور کے علاوہ پورے خیبر پختون خواہ میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ نہیں ہو سکتے،پوری دنیا کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پرسندھ حکومت کی
تعریفیں کر رہی ہے لیکن وفاقی حکومت سندھ کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے،جس وفاقی وزیر پر کرپشن ثابت ہو جائے اس کو اچھی وزارت مل جاتی ہے،خیبر پختون خواہ اور وفاق میں کوئی ایک ایسا ہسپتال نہیں جہاں فری اعلاج کی سہولت فراہم کی جارہی ہو لیکن سندھ میں ایسے بہت سے ہسپتال ہیں جہاں اعلاج فری ہو رہا ہے، سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ نے پارلیمنٹ کے دروازے بند کر دیئے ہیں اگر اجلاس نہ ہوا تو بجٹ کیسے پاس کروائیں گے, جس طرح مچھر کو کپڑے پہنانے مشکل ہیں اس طرح پی ٹی آئی والوں کو سمجھنا مشکل ہے ,خیبر پختون خواہ میں ڈاکٹروں کے ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے ڈاکٹروں کو کرونا وائرس ہو گیا ہے، ان خیالات کا اظہار ا صدر پاکستان پیپلزپارٹی خیبر پختون خواہ ہمایوں خان،جنرل سیکرٹری فیصل کریم کنڈی اور سیکرٹری اطلاعات سینیٹر روبینہ خالد نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا پیپلزپارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈینیٹر نذیر ڈھوکی بھی ان کے ہمراہ تھے ہمایوں خان نے کہا کہ جب چین میں وبا پھیلنے لگی تو تب سندھ میں احتیاطی تدابیر کی پلاننگ شروع ہوگی تھی جب پاکستان میں کرونا کا پہلا مریض سامنے آیا تو سندھ حکومت قرنطینہ سینڑ کا کام شروع کر چکی تھی چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو کرونا کے خلاف مل کر لڑنے کی بات کی اور کہا تھا یہ وقت سیاست کا نہیں ہیمگر سلیکٹڈ نے الٹا کام کیا، وزراء مشیر پیپلزپارٹی کے خلاف چھوڑ دیے انہوں نے کہا کہ اس وقت سلیکٹڈ وزیراعظم اٹھارویں ترمیم کے
خلاف مہم چلوا رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے اپنے ممبران اسمبلی حکومتی کارکردگی سے مایوس ہیں کچھ ممبران پارٹی چھوڑنے والے ہیں خیبر پختونخواہ حکومت کی کارکردگی کرونا اور باقی تمام معاملات میں مایوس کن ہے۔ہسپتالوں حالت انتہائی خراب فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آج ملک میں یکجھتی نظر نہیں آرہی اور سلیکٹڈ وزیراعظم نے سندھ کا ابھی تک دورہ نہیں کیا سندھ کیا پاکستان کا حصہ نہیں ہے
دو وزرا کو کراچی میں چھوڑا گیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کے خلاف بولتے رہیں۔ خیر پختونخواہ میں کورونا ٹیسٹ بہت کم ہو رہے ہیں،جبکہ خیبر پختون خواہ میں لوگ افغانستان, یو اے ای اور سعودی عرب سے آ رہے ہیں نوشیروان برکی کو خیبر پختون خواہ کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ پر مسلط کیا گیا ہے جو اب امریکہ بھاگ گیا ہے اور وہاں سے ویڈیو لنک کے زریعے معاملات کو دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ کا
ایک ہسپتال دکھایا جائے جہاں مفت میں لوگوں کا علاج ہوتا ہے ،حکومت کے ترجمان بتائیں کہ وزیراعظم کی کس وقت کی بات پر اعتبار کریں،کیونکہ وزیراعظم تین وقتوں پر تین باتیں کرتے ہیں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جن پر الزامات ثابت نہ ہوں ان کو چور اور ڈاکو اور جن پر ثابت ہوجائے ان وزیروں کو اچھی وزارتیں دی جاتی ہیں، سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ اسد عمر کہتے ہیں حادثات میں بھی لوگ مرجاتے
تو کیا ٹریفک بند کردی جائے ،ایک زمہ دار وزیر سے اتنے مضحکہ خیز بیان کی امید نہیں تھی، خیبر پختونخواہ میں کورونا وائرس سے شرح اموات زیادہ ہیں،لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں ایک خاتون ڈاکٹر کے کہنے کے باوجود اس کا کورونا ٹیسٹ نہیں کیا گیا،نتیجے میں بارہ ڈاکٹرز کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی،روبینہ خالد نے کہا کہ اب لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور سمیت تمام گائنی کے ہسپتال بند کر دیئے گئے ہیں،لیکن بچے کی پیدائش کا تو وقت مقرر ہے انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا سامان بازاروں میں فروخت ہورہا ہے۔



















































